منن الرحمٰن — Page 445
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۴۳ نور القرآن نمبر ۲ (۲) دوسری قسم کے بیٹے کا انجیل میں ایک بے ہودہ بیان ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ میں ہے یعنی اس درس میں بیٹا تو ایک طرف ہریک کو خواہ کیسا ہی بدمعاش ہو خدا بنا دیا ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ نوشتوں کا باطل ہونا ممکن نہیں ۔ غرض انجیل نے شخصی تقلید سے اپنی قوم کا ایک مشہور لفظ لے لیا علاوہ اس کے یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جاوے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہو گا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے چنانچہ ہم اس بحث کو بفضلہ تعالیٰ کتاب من الرحمن میں بتفصیل بیان کر چکے ہیں ۔ اس سے آپ پر ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ پر باپ کا لفظ اطلاق کرنا نہایت گندہ اور نا پاک طریق ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن کریم نے سمجھانے کے لئے یہ تو کہا کہ خدا تعالیٰ کو ایسی محبت سے یاد کرو جیسا کہ باپوں کو یا د کرتے ہو مگر یہ کہیں نہیں کہا کہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کو باپ سمجھ لو ۔ اور انجیل میں ایک اور نقص یہ ہے کہ اس نے یہ تعلیم کسی جگہ نہیں دی کہ عبادت کرنے کے وقت اعلیٰ طریق عبادت یہی ہے کہ اغراض نفسا نیہ کو درمیان سے اٹھا دیا جاوے بلکہ اگر کچھ سکھلا یا تو صرف روٹی مانگنے کے لئے دعا سکھلائی ۔ قرآن شریف نے تو ہمیں یہ دعا سکھلائی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لا یعنی ہمیں اس راہ پر قائم کر جو نبیوں اور صدیقوں کی اور عاشقان الہی کی راہ ہے ۔ مگر انجیل یہ سکھلاتی ہے کہ ہماری روز بینہ کی ینہ کی روٹی آج ہمیں بخش ۔ ہم نے تمام انجیل پڑھ کر دیکھی اس میں اس اعلیٰ تعلیم کا نام ونشان نہیں ہے ۔ ا الفاتحه : ۷،۶