منن الرحمٰن — Page 161
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۶۱ منن الرحمن الى عقيدة الا قائد التعميق۔ و ما فهمني الا ربي الذي هو خير المفهمين عمیق بینی کی کشش کے اور کسی نے مجھ کوکسی عقیدے کی طرف نہیں کھینچا اور بجر خدا کے مجھ کوکسی نے نہیں سمجھایا اوروہ سب سمجھانے والوں سے بہتر ہے بقیه حاشیه : راہ سے دوسری قوموں کی تحقیر کی غرض سے تراشا گیا ہے لیکن یہ غلطی محض اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ ان کی عیسائیت کا بخل ان کو اس بات کی دریافت سے مانع ہوا کہ آیا مجم اور عرب کا لفظ انسان کی طرف سے یا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اپنی کتاب میں خود اقرار کر چکے ہیں کہ مفردات زبان کا اپنی طرف سے بنالینا کسی انسان کا کام نہیں ۔ اب ہم ان پر اور ان کے ہم خیالوں پر واضح کرتے ہیں کہ زبان عرب میں دو لفظ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہیں۔ ایک تو عرب جس کے معنی فصیح اور بلیغ کے ہیں اور دوسرا نجم جو اس کے مقابل پر واقع ہے جس کے معنی غیر فصیح اور بستہ زبان ہے اگر میکس مر صاحب کے خیال میں یہ دو لفظ قدیم نہیں ہیں اور اسلام نے ہی بخل کی راہ سے ان کو ایجاد کیا ہے تو ان کو ان لفظوں کا نشان دینا چاہیے جو ان کی رائے میں اصلی لفظ تھے کیونکہ یہ تو ممکن نہیں کہ کسی قوم کا قدیم سے کوئی بھی نام نہ ہو اور جب قدیم ماننا پڑا تو ثابت ہوا کہ یہ انسانی بناوٹ نہیں بلکہ وہ قادر عالم الغیب جس نے مختلف استعدادوں کے ساتھ انسانوں کو پیدا کیا ہے اس نے مختلف لیاقتوں کے لحاظ سے یہ دو نام آپ مقرر کر دیئے ہیں۔ پھر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر یہ دو نام عرب اور عجم کسی انسان نے محض تعصب اور تحقیر کے لحاظ سے آپ ہی گھڑ لئے ہیں تو بلا شبہ یہ واقعات کے برخلاف ہوں گے اور محض دروغ بے فروغ ہوگا لیکن ہم اس کتاب میں ثابت کر چکے ہیں کہ عرب کا لفظ در حقیقت اسم بامسمی ہے اور واقعی طور پر یہ بات سچ ہے کہ زبان عربی اپنے نظام مفردات اور لطافت ترکیب اور دیگر عجائب و غرائب کے لحاظ سے ایسے اعلیٰ مقام کے مرتبہ پر ہے کہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ دوسری زبانیں اس کے مقابل پر گونگے کی طرح ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری تمام زبانیں جمادات کی طرح بے حس و حرکت پڑی ہیں اور اطراد مواد کی حرکت ایسی ان سے مفقود ہے کہ گویا وہ بالکل بے جان ہیں تو ہمیں بمجبوری یہ ماننا پڑتا ہے کہ ۱۶ در حقیقت وہ زبانیں نہایت تنزل کی حالت میں ہیں اور عربی زبان میں یہ بات نہایت نرم لفظوں میں کہی گئی ہے کہ عرب کے مقابل کے لوگوں کا نام مجم ہے ورنہ اس نام کا استحقاق بھی ان زبانوں اور ان لوگوں کو حاصل نہ تھا اور اگر ٹھیک ٹھیک ان کے تنزل کا حال ظاہر کیا جا تا تو یہ لفظ نہایت موزوں تھا کہ ان زبانوں کا نام مردہ زبانیں رکھا جاتا۔ بہر حال اب ہم اس مقدمہ کو صرف دعوئی کی صورت میں پیش نہیں کرتے ہم نے اس جھگڑے کے طے کے لئے ۔