منن الرحمٰن — Page 160
۱۵ روحانی خزائن جلد ۹ ١٦٠ منن الرحمن ككل جهول ضنين۔ وما حركني الى امر الا اعين التحقيق۔ و ما جرني جیسا کہ ہر یک نا فہم بخیل کی عادت ہے۔ اور کبھی کسی چیز نے بحر تحقیق کی آنکھوں کے کسی امر کی طرف مجھے جنبش نہیں دی۔ اور بجز بقیه حاشیه : کی زبانیں تھیں جو مفردات اور اسماء کی وجوہ تسمیہ بیان کرنے میں گونگی تھیں مفردات کا کچھ نظام نہ تھا۔ اطراد مواد کا کچھ بھی سرمایہ نہ تھا۔ ایک گری ہوئی عمارت کی طرح اینٹیں پڑی تھیں جن کی ترتیب طبعی کا کوئی بھی نشان باقی نہ تھا پس ان کو ایسی نالائق زبانیں کیونکر الہیات میں مدد دے سکتی تھیں اس لئے وہ تمام قو میں ہلاک ہو گئیں پھر قرآن کریم ایک ایسی کامل زبان میں نازل ہوا جس میں یہ سارا سامان نظام موجود تھا اس لئے دین اسلام بگڑنے سے محفوظ رہا اور خدائے قادر کی جگہ مخلوق نے نہیں لی۔ اب اس کے بعد اگرچہ ہمارا ارادہ تھا کہ چند اور کلمات کی بھی تشریح کی جائے اور دکھلایا جائے کہ عربی کے مفردات کس قدر حقائق عالیہ اپنے اندر رکھتے ہیں مگر افسوس کہ طول کے خوف سے بالفعل ہم اس مضمون کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں لیکن یہ تین سو لفظ جو ہم لکھ چکے ہیں یہ اسی غرض سے لکھے گئے ہیں تا ہمارے مخالف بھی ایسی ہی عبارتیں اپنی اپنی زبانوں میں بنا کر مثلاً ایسا ہی خطبہ اور اس کے بعد ایسی ہی تمہید کلمات مفردہ میں ہم کو لکھ کر دکھلا دیں تا ہم بھی دیکھیں کہ ان کے پاس کس قدر مفردات ہیں اور وہ اپنے مفردات کو کسی امر کے بیان میں کہاں تک نباہ سکتے ہیں اور مفردات کا نظام اپنے پاس رکھتے ہیں یا یوں ہی لاف و گزاف ہے۔ اس جگہ ہم میکس ملر کے بعض شبہات اور وساوس کو بھی دور کرنا قرین مصلحت سمجھتے ہیں جو اس نے اپنی کتاب لیکچر جلد اول علم اللسان کی بحث کے نیچے لکھے ہیں چنانچہ بطرز قولہ واقول کے ذیل میں تحریر ہیں۔ قوله : ترقی علم کے موانعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض قوموں نے دوسری قوموں کو استخفاف اور تحقیر کی جگہ سے دیکھنے کے لئے ان کی نسبت حقارت آمیز القاب تراشے اس لئے وہ ان محقر قوموں کی لغات کے سیکھنے سے قاصر رہے اور جب تک یہ الفاظ جنگلی اور مجھی کہنے کے انسان کی لغات اور فرہنگ سے نہ نکالے گئے اور بجائے اس کے لفظ برادر قائم نہ ہوا ایسا ہی جب تک تمام قوموں کا بہ یہ استحقاق تسلیم نہ کیا گیا کہ وہ ایک ہی نوع یا جنس کے ہیں اس وقت تک ہمارے اس علم اللسان کا آغاز نہ ہوا۔ اقول : صاحب راقم کی اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل ان کو اہل عرب پر اعتراض ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ جو دوسری زبان والوں کو عجمی بولتے ہیں یہ لفظ محض بخل اور تعصب کی