معیارالمذاہب — Page 320
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۲۰ ضياء الحق بقیه صفحه ۲۵۰ کی طرف سے ہے سو کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے۔ اگر چہ بہت سے لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گزاریں ہیں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگا ویں کہ جو اُم الالسنہ کون سی زبان ہے مگر چونکہ ان کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف ان کی پوری توجہ نہیں تھی بلکہ ایک نخل تھا لہذا وہ حقیقت شناسی سے محروم رہ گئے اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور ام الالسنه جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی والوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر ہیں۔ اگر چہ ہم نے اس رائے کو سرسری طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنی جگہ پر پوری تو پر پوری تحقیقات کر لی ہے اور ہزار ہا الفاظ سنسکرت وغیرہ کا مقابلہ کر کے اور ہر یک لغت کے ماہروں کی کتابوں کو سن کر اور خوب عمیق نظر ڈال کر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ زبان عربی کے سامنے سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کچھ بھی خوبی نہیں پائی جاتی بلکہ عربی کے الفاظ کے مقابل پر ان زبانوں کے الفاظ لنگڑوں ۔ لولوں ۔ اندھوں ۔ بہروں ۔ مبرووں ۔ مجذوموں کے مشابہ ہیں جو فطری نظام کو بکلی کھو بیٹھے ہیں اور کافی ذخیرہ مفردات کا جو کامل زبان کے لئے شرط ضروری ہے اپنے ساتھ نہیں رکھتے لیکن اگر ہم کسی آر یہ صاحب یا کسی پادری صاحب کی رائے میں غلطی پر ہیں اور ہماری یہ تحقیقات ان کی رائے میں اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ ہم ان زبانوں سے نا واقف ہیں تو اول ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ جس طرز سے ہم نے