معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 581

معیارالمذاہب — Page 318

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۸ ضياء الحق وہ اب تک صدی کے باراں برس گزرنے پر بھی زندہ ہے پس اے مسلمان مخالفو ! جو اپنے تئیں مسلمان سمجھتے ہو اپنی جانوں پر رحم کرو کیونکہ یہ اسلام نہیں ہے جو تم سے ظاہر ہو رہا ہے ۔ نئی صدی نے تمہیں ایک مجدد کی حدیث یاد دلائی تم نے اس کی کچھ بھی پر واہ نہیں کی ۔ کسوف خسوف نے تمہیں مہدی کے آنے کی بشارت دی مگر تم نے اس کو بھی ایک بے ہودہ بات کی طرح ٹال دیا تمام بزرگوں کی فراستیں اور مکاشفات مسیح موعود کے لئے ایک اجماعی قول کی طرح چودھویں صدی تک تم نے سن لیں پر تم نے اس کو بھی رد کر دیا قرآن کو چھوڑا اور ان حدیثوں کو بھی ترک کر دیا جو قرآن کے مطابق ہیں مگر یا د رکھو کہ تم کا ذب ہو ضرور تھا کہ تم اس آخری صادق کے مکذب ہو تے کیونکہ جو کچھ اس پاک نبی نے تمہارے حق میں فرمایا تھا ضرور تھا کہ وہ سب پورا ہو ۔ بعض لوگ نہایت نا سمجھی سے کہا کرتے ہیں کہ اس طور سے پیشگوئی کے پورے ہونے میں فائدہ کیا نکلا اور حق کے طالبوں کو کیا فیض حاصل ہوا ۔ سو اُ نہیں اگر دانشمند ہیں تو ان تمام پیشگوئیوں کو نظر کے سامنے لے آنا چاہئے جو خدا کے پاک نبیوں کی معرفت پوری ہوئیں تا معلوم ہو کہ پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کی ایک خاص غرض نہیں ہوتی بلکہ بعض وقت قدرت کا ظاہر کرنا مد نظر ہوتا ہے اور بعض وقت ان علوم اور اسرار کا بقیہ نوٹ: سو وہ صدی کے آتے ہی اس جہان سے گزر گئے اور بعض ملاؤں نے مولوی عبدالحی لکھنوی کو اس صدی کا مجد دخیال کیا تھا۔ انہوں نے بھی پہلے ہی فوت ہو کر اپنے ایسے دوستوں کو شرمندہ کیا۔ منہ