مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 81

روحانی خزائن جلد ۱۵ M مسیح ہندوستان میں نہیں رہے گا۔ اور جس وقت ان تعلیموں اور اصولوں کا زوال ہوگا۔ تر ا ۔ تب متیا اس ملک میں ﴿۷﴾ آ کر دوبارہ ان اخلاقی تعلیموں کو دنیا میں قائم کرے گا ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پانسو برس بعد بدھ کے ہوئے ہیں اور جیسا کہ بدھ نے اپنے مذہب کے زوال کی مدت مقرر کی تھی ۔ ایسا ہی اس وقت بدھ کا مذہب زوال کی حالت میں تھا۔ تب حضرت مسیح نے صلیب کے واقعہ سے نجات پا کر اس ملک کی طرف سفر کیا اور بدھ مذہب والے اُن کو شناخت کر کے بڑی تعظیم سے پیش آئے ۔ اور اس میں کوئی بھی شک نہیں کر سکتا کہ وہ اخلاقی تعلیمیں ! یمیں اور وہ روحانی طریقے جو بدھ نے قائم کئے تھے حضرت مسیح کی تعلیم نے دوبارہ دنیا میں ان کو جنم دیا۔ ہے۔ عیسائی مؤرخ اس بات کو مانتے ہیں کہ انجیل کی پہاڑی تعلیم اور دوسرے حصوں کی تعلیم ۵۰۰ جو اخلاقی امور پر بنی ہے یہ تمام تعلیم وہی ہے جس کو گوتم بدھ حضرت مسیح سے پانسو برس پہلے دنیا میں رائج کر چکا تھا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بدھ صرف اخلاقی تعلیموں کا سکھلانے والا نہیں تھا بلکہ وہ اور بھی بڑی بڑی سچائیوں کا سکھلانے والا تھا ۔ اور ان کی رائے میں بدھ کا نام جو ایشیا کا نور رکھا گیا وہ عین مناسب ہے۔ اب بدھ کی پیشگوئی کے موافق حضرت مسیح پانسو برس کے بعد ظاہر ہوئے اور حسب اقرار اکثر علماء عیسائیوں کے ان کی اخلاقی تعلیم بدھ کی تعلیم تھی تو اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ بدھ ۔ ہو سکتا کہ وہ بدھ کے رنگ پرظ کے رنگ پر ظہور فرما ہوئے تھے۔ اور کتاب اولڈن برگ میں بحوالہ بدھ کی کتاب لگا وتی ستنا کے لکھا ہے کہ بدھ کے معتقد آئندہ زمانہ کی امید پر ہمیشہ اپنے تئیں تسلی دیتے تھے کہ وہ متیا کے شاگرد بن کر نجات بعینہ کی خوشحالی حاصل کریں گے یعنی ان کو یقین تھا کہ متیا ان میں آئے گا اور وہ اس کے ذریعہ سے نجات پائیں گے کیونکہ جن لفظوں میں بدھ نے ان کو متیا کی امید دی تھی وہ لفظ صریح