مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 80

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۸۰ مسیح ہندوستان میں ۷۸ مشابہ ہے اور بدھ ازم کی کتاب کے صفحہ ۴۵ میں لکھا ہے کہ بدھ کی اخلاقی تعلیم اور عیسائیوں کی اخلاقی تعلیم میں بڑی بھاری مشابہت ہے۔ میں اس کو مانتا ہوں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ وہ دونوں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا سے محبت نہ کرو۔ روپیہ سے محبت نہ کرو۔ دشمنوں سے دشمنی مت کرو۔ بُرے اور ناپاک کام مت کرو۔ بدی پر نیکی کے ذریعہ سے غالہ کے ذریعہ سے غالب آؤ۔ اور دوسروں سے وہ سلوک کرو جو تم چاہتے ہو کہ وے تم سے کریں۔ یہ اس قدر انجیلی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں مشابہت ہے کہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بدھ نے ایک اور آنے والے بدھ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جس کا نام متیسا بیان کیا تھا ۔ یہ پیشگوئی بدھ کی کتاب لگا وتی سُنتا میں ہے جس کا حوالہ کتاب اولڈن برگ صفحہ ۱۴۲ میں دیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے متیا لاکھوں مریدوں کا پیشوا ہو گا جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں۔ اس جگہ یادر ہے کہ جو لفظ عبرانی میں مشیحا ہے وہی پالی زبان میں متیا کر کے بولا گیا ہے۔ یہ تو ایک معمولی بات ہے ۳ کہ جب ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میں آتا ہے تو اس میں کچھ تغیر ہو جاتا ہے ہے : چنانچہ انگریزی لفظ بھی دوسری زبان میں آ کر غیر پا جاتا ہے جیسا کہ نظیر کے طور پر میکسمولر صاحب ایک فہرست میں جو کتاب سیکرڈ آف دی ایسٹ جلد نمبر اا کے ساتھ شامل کی گئی ہے صفحہ ۳۱۸ میں لکھتا ہے کہ ٹی ایچ انگریزی زبان کا جو تھ کی آواز رکھتا ہے فارسی اور عربی زبانوں میں ث ہو جاتا ہے یعنی پڑھنے میں ٹ یاس کی آواز دیتا ہے۔ سوان تغییرات پر نظر رکھ کر ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ مسیحا کا لفظ پالی زبان میں آ کر متیا بن گیا ۔ یعنی وہ آنے والا متیا جس کی بدھ نے پیشگوئی کی تھی وہ در حقیقت مسیح ہے اور کوئی نہیں ۔ اس بات پر بڑا پختہ قرینہ یہ ہے کہ بدھ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ جس مذہب کی اس نے بنیا د رکھی ہے وہ زمین پر پانچ سو برس سے زیادہ قائم 1۔ Cakkavatti Suttanta 2۔Buddha by Dr۔ Herman Oldenberg۔pp۔142 3۔ Max Muller 4۔ Sacred Books of the East