مجموعہ آمین — Page 500
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۰۰ مجموعه آمین تری رحمت عجب ہے اے مرے یار ترے فضلوں سے میرا گھر ہے گلزار غریقوں کو کرے اک دم میں تو پار وہ ہو آواره ہر جو ہو نومید تجھ سے ہے وہ مردار دشت و وادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ہوئے ہم تیرے اے قادر توانا ترے در کے ہوئے اور تجھ کو جانا ہمیں بس ہے تری درگہ آنا کہ تیرا نام ہے مصیبت سے ہمیں ہر دم بچانا غفار و ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تجھے دنیا میں ہے کس نے پکارا کہ پھر خالی گیا قسمت کا مارا تو پھر ہے کس قدر اس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات ترے فضلوں سے پر ہیں میرے دن رات ۱۳ میری خاطر دکھائیں تو نے آیات ترتم سے مری سن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات عطا کیں تو نے سب میری مرادات پڑا پیچھے جو میرے غول بدذات پڑی آخر خود اس موذی پر آفات ہوا سب کا انجام نا مرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات بد اندیشوں کو تو نے کر دیا مات ہر اک میداں میں دیں تو نے فتوحات