مجموعہ آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 499 of 615

مجموعہ آمین — Page 499

روحانی خزائن جلد ۱۷ مقابل میں مرے یہ ۴۹۹ مجموعه آمین لوگ ہارے کہاں مرتے تھے پر تو نے ہی مارے شریروں پر پڑے اُن کے شرارے نہ اُن سے رک سکے مقصد ہمارے انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پند گیر سے تیر گرفتار آ گئے جیسے کہ نخچیر ہوا آخر وہی جو تیری تقدیر بھلا چلتی ہے تیرے آگے تدبیر حریفوں کو لگے ہر سمت خدا نے اُن کی عظمت سب اڑا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مری اُس نے ہر اِک عزت بنا دی مخالف کی ہر اک شیخی مٹا دی سے اُس نے عطا دی سعادت دی، ارادت دی، وفا دی مجھ کو شفا دی مرض گھٹتا گیا جوں جوں دوا کی ۱۳ خدا جانے کہ دل کو کیا سنا دی مجھے ہر قسم ہر اک آزار سے محبت غیر کی دل سے ہٹا دی دوا دی اور غذا دی اور قبا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مجھے کب خواب میں بھی تھی یہ اُمید کہ ہو گا میرے پر یہ فضل جاوید ملی یوسف کی عزت لیک بے قید نہ ہو تیرے کرم سے کوئی نومید مراد آئی ، گئی سب نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي