محمود کی آمین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 494

محمود کی آمین — Page 206

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۰۴ حجة الله ۵۶) وقد شخْتَ واستشنَّ الأديمُ، وقرب أن يتأوّد القويم، وحان الوقت الوخيم ۔ ما لك لا تعنو اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور وقت نزدیک آگیا کہ پیٹھ ٹیڑھی ہو جائے اور وقت بھاری نزدیک آ گیا۔ کیا سبب ہے کہ تیری ناصيتك لرب العباد، ولا تترك طرق الخبث والفساد ؟ ألا تؤمن بيوم المعاد، أو تنكر پیشانی خدا تعالیٰ کے لئے نہیں جھکتی اور حیث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ کیا تو قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتا۔ یا تو وجود الله القادر على الإعدام والإيجاد ؟ فأصلح نفسك قبل أن تأكلك الدود، خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان نہیں رکھتا جو مارنے اور پیدا کرنے پر قادر ہے پس قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھا لیں اور موت آجائے اپنے ويجيئك الأجل الموعود، وبادِرُ لما يحسن به المال، قبل أن يأخذك الوبال، وحَيَّهَل نفس کی اصلاح کر اور ان چیزوں کے حصول کیلئے جلدی کر جس سے انجام اچھا ہو جاوے قبل اس کے جو تجھ کو وبال پکڑلے اور توبہ کی بالتوبة قبل أن تنخر عظمك في التربة، فإن الله يحبّ التوابين ويحب المتطهرين ۔ وإنما طرف جلدی کر قبل اس کے جو قبر میں تیری ہڈی بوسیدہ ہو جائے اور خدا تعالیٰ تو بہ کر نیوالوں اور پاکیز گی ڈھونڈ نیوالوں کو دوست رکھتا الوصلة إلى الرحمن التقوى وتطهير الجنان ۔ فاتق الله ولا تكن من المجترئين۔ ہے۔ اور خدا کی طرف وسیلہ دوہی چیزیں ہیں۔ تقوی اور دل کا پاک کرنا ۔ پس خدا سے ڈر اور دلیروں میں سے مت ہو۔ ثم نرجع إلى عبد الحق، الذي تكبر ووثب كالبق، فاعلم يا عدو الصالحين، ومكفر پھر ہم عبد الحق کی طرف رجوع کرتے ہیں جس نے تکبر کیا اور پیشہ کی طرح کو دا ہے پس اے عد و صالحین اور مومنوں کے کافر المؤمنين، إنك آذيتني، فقاتلک الله کیف آذيتني، وعاديتني، فتبا لك لما کہنے والے تجھے معلوم ہو۔ تو نے مجھے دکھ دیا پس خدا تجھے ہلاک کرے تو نے یہ کیسا دکھ دیا اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا عاديتني ۔ أما كنت من المهللين المسلمين؟ أما كنت من المصلين الصائمين؟ تجھے تباہ کرے تو نے تھا؟ ، یہ کیوں دشمنی کی کیا میں کلمہ گو اور مسلمان نہیں تھا ؟ کیا میں نماز پڑھنے والوں اور روزہ رکھنے والوں میں سے فكيف كفرتني قبل تفتيش الأحوال، وأفَحْتَ دم الصدق بأباطيل المقال؟ نہیں تھا۔ پس تو نے اصل حقیقت کی تفتیش سے پہلے کیونکر مجھے کافر ٹھہرا دیا۔ اور باطل باتوں کے ساتھ تو نے سچائی کا خون کیا۔