لیکچر لاہور — Page 43
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۳ تذكرة الشهادتين اور شہروں اور دیہات میں تو ہین اسلام کرنے لگا تب وہ میعاد کے اندر ہی اپنی اس بداعمالی کی وجہ سے پکڑا گیا اور وہ زبان اُس کی جو گالی اور بد زبانی میں چھری کی طرح چلتی تھی اُسی چھری نے اس کا کام تمام کر دیا۔ رہا احمد بیگ کا داماد پس ہر ایک شخص کو معلوم ہے کہ یہ پیشگوئی دو شخصوں کی نسبت تھی ۔ ایک احمد بیگ کی نسبت اور دوسری اُس کے داماد کی نسبت ۔ سو ایک حصہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر ہی پورا ہو گیا یعنی احمد بیگ میعاد کے اندر مر گیا اور اس طرح پر ایک ٹانگ پیشگوئی کی پوری ہوگئی ۔ اب دوسری ٹانگ جو باقی ہے اس کی نسبت جو اعتراض ہے افسوس کہ وہ دیانت کے ساتھ پیش نہیں کیا جاتا اور آج تک کسی معترض کے منہ سے میں نے یہ نہیں سنا کہ وہ اس طرح پر اعتراض کرے کہ اگر چہ اس پیشگوئی کا ایک حصہ پورا ہو چکا ہے اور ہم بصدق دل اعتراف کرتے ہیں کہ وہ پورا ہوا مگر دوسرا حصہ اب تک پورا نہیں ہوا بلکہ یہودیوں کی طرح پورا ہونے والا حصہ بالکل مخفی رکھ کر اعتراض کرتے ہیں ۔ کیا ایسا شیوہ ایمان اور حیا اور راستبازی کے مطابق ہے؟ اب قطع نظر ان کی خائنانہ طرز گفتگو کے جواب یہ ہے کہ یہ پیشگوئی بھی آتھم کی پیشگوئی کی طرح مشروط بشرط ہے یعنی یہ لکھا گیا تھا کہ اس شرط سے وہ میعاد کے اندر پوری ہوگی کہ ان دونوں میں سے کوئی شخص خوف اور خشیت ظاہر نہ کرے سواحمد بیگ کو یہ خوفناک علامت پیش نہ آئی اور وہ پیشگوئی کو خلاف واقعہ سمجھتا رہا مگر احمد بیگ کے داماد اور اُس کے عزیزوں کو یہ خوفناک حالت پیش آگئی کیونکہ احمد بیگ کی موت نے ان کے دلوں پر ایک لرزہ ڈال دیا جیسا کہ انسانی فطرت میں داخل ہے کہ سخت سے سخت انسان نمونہ دیکھنے کے بعد ضرور ہراساں ہو جاتا ہے سوضرور تھا کہ اس کو بھی مہلت دی جاتی ۔ سو یہ تمام اعتراضات جہالت اور نا بینائی اور تعصب کی وجہ سے ہیں نہ دیانت اور حق طلبی کی وجہ سے جس شخص کے ہاتھ سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کیا اگر ایک یا دو پیشگوئیاں اُس کی کسی جاہل اور بد فہم اور غبی کو سمجھ میں نہ آویں تو اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ وہ تمام پیشگوئیاں صحیح نہیں ۔ میں یہ بات حتمی وعدہ سے لکھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف خواہ عیسائی ہو خواہ بگفتن مسلمان ۔ میری پیشگوئیوں کے ﴿۴﴾