لیکچر لاہور — Page 42
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۲ تذكرة الشهادتين شرمندہ ہو کر اُس جگہ سے بھاگنا پڑا۔ یہ پیشگوئی بائبل میں یونہ نبی کی کتاب میں بھی موجود ہے جس کو عیسائی خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں۔ پھر باوجود ان سب باتوں کے مسلمان ان پیغمبروں پر ایمان بھی لاتے ہیں اور ان چند اعتراضات کی کچھ پروانہیں کرتے اور وہ دو پیشگوئیاں مذکورہ بالا جن کی نسبت اُن کا اعتراض ہے یعنی آتھم کے متعلق اور احمد بیگ کے داماد کے متعلق ان کی نسبت ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ آتھم کی موت کی پیشگوئی تمام تر صفائی سے پوری ہو گئی ۔ اب تلاش کرو آتھم کہاں ہے۔ کیا وہ زندہ ہے یا مر گیا ۔ پیشگوئی کا ماحصل یہ تھا کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ بچے سے پہلے مرے گا سو مدت ہوئی کہ آتھم مر گیا اور یہ فقرہ جو اس پیشگوئی میں موجود تھا کہ آتھم پندرہ مہینہ کے اندر مرے گا۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی شائع کی گئی تھی کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے مگر آتھم نے اُسی مجلس بحث میں اپنی بے ادبی سے رجوع کر لیا تھا کیونکہ جب میں نے اُس کو کہا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے کہ تم نے آنحضرت صلعم کو اپنی کتاب میں دجال لکھا ہے تو سنتے ہی اُس کا چہرہ زرد ہو گیا اور نہایت تضرع سے اُس نے اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لئے اور کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہرگز ایسا نہیں کہا۔ اور بڑی عاجزی اور تضرع ظاہر کی ۔ اُس وقت ساٹھ سے زیادہ مسلمان اور عیسائی وغیرہ موجود تھے۔ کیا یہ ایسا لفظ نہیں تھا جس کو شوخی اور بے ادبی سے رجوع سمجھا جائے اور پھر وہ پندرہ مہینہ تک مخالفت سے بالکل چپ رہا اور اکثر گریہ و بکا میں رہا اور اپنی حالت اُس نے بالکل بدل لی۔ پس ایک نیک دل ایماندار کے لئے یہ کافی ہے کہ اُس نے پندرہ مہینہ کے اندر کسی حد تک اپنی تبدیلی کر لی تھی ۔ اور چونکہ اُس نے خدا تعالیٰ سے خوف کھا کر نرمی اور تضرع اختیار کیا اور قطعاً شوخی اور گستاخی چھوڑ دی بلکہ امرتسر میں جو ایسے لوگوں کی صحبت اُسے میسر تھی اُس صحبت کو ترک کر کے اور وہ مکان چھوڑ کر وہ فیروز پور میں جا کر مقیم ہو گیا ۔ پس ضرور تھا کہ وہ اس قدر خوف سے فائدہ اُٹھاتا ۔ پس اگر چہ اس بات سے محفوظ نہ رہا کہ میرے پہلے بہت جلد انہیں دنوں میں مر گیا مگر کسی قدر شرط کے پورا کرنے سے فائدہ اُٹھا لیا۔ اُس کے مقابل لیکھر ام تھا جس نے پیشگوئی کی میعاد میں کوئی تضرع اور خوف ظاہر نہ کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہو کر بازاروں اور کوچوں ۱۵