کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 630

کتاب البریہ — Page 201

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۱ كتاب البرية شخص بہت کچھ لکھا ہے جس سے ہم نا خوش ہیں۔ مرزا صاحب کے مرید امرتسر میں بھی ہیں معلوم ۱۶۸ نہیں کہ کس قدر ہیں۔ میں قطب الدین ۔ یہ یعقوب اخبار نویس اور ایک اور شخص مریدان سے واقف ہوں ۔ یہ معلوم نہیں کہ عبداللہ آتھم نے سانپ فیروز پور والے کو بچشم خود دیکھا تھا یا نہ۔ میں نے دو دفعہ بندوق عبداللہ آتھم پر قم پر چلتے نہیں دیکھی رائے میاد اس اکسٹرا اسسٹنٹ نے ہم سے ذکر کیا تھا۔ مکان میں آدمیوں کے داخل ہونے کی بابت بھی رائے میا داس نے کہا تھا۔ ان حملوں کی بابت پولیس میں معلوم نہیں کہ کوئی رپٹ دی گئی تھی یا نہ یا کوئی استغاثہ بقیه حاشیه ہوا لیکن روحانی سختی کشی کا حصہ ہنوز باقی تھا۔ سو وہ حصہ ان دنوں میں مجھے اپنی قوم کے ۱۶۸ مولویوں کی بد زبانی اور بد گوئی اور تکفیر اور توہین اور ایسا ہی دوسرے جہلاء کے دشنام اور دل آزاری سے مل گیا ۔ اور جس قدر یہ حصہ بھی مجھے ملا میری رائے ہے کہ تیرہ سو برس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کم کسی کو ملا ہوگا ۔ میرے لئے تکفیر کے فتوے طیار ہو کر مجھے تمام مشرکوں اور عیسائیوں اور دہریوں سے بدتر ٹھہرایا گیا اور قوم کے سفہاء نے اپنے اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مجھے وہ گالیاں دیں کہ اب تک مجھے کسی دوسرے کے سوانح میں ان کی نظیر نہیں ملی ۔ سو میں اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ دونوں قسم کی سختی سے میرا امتحان کیا گیا۔ اور پھر جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا۔ تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجد رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ الرحمن علم القرآن لتنذر قومًا مَا أُنذِرَ آباء هُم وَ لتستبين سبيل المجرمين۔ قل انّي أُمِرْتُ وَ انا اوّل المُؤمنين یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دیئے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے کہ جو