کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 630

کتاب البریہ — Page 200

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۰ كتاب البرية ۱۶۷ آریہ کا نام امرتسر میں یا اور جگہ ہمیں معلوم نہیں جس نے مجھے کہا ہو کہ مرزا صاحب نے لیکھرام کو قتل کیا یا کرایا ہے ۔ لالہ رام بھیج دت جو ہماری طرف سے وکیل ہے اور موجود عدالت ہے آریہ ہے کوئی فیس ہم نے ان کو نہیں دی ۔اشتہار حرف۔P۔O۔N۔M ہم نے لالہ رام بھیج سے لئے ہیں ۔ آج سے پہلے قبل از تقرری بطور پیرو کار منجانب سرکار ہے ہم بھی آپ کو گواہ سمجھتے تھے یہ بھی ہم کو معلوم ہے کہ مسلمان بھی عموماً مرزا صاحب کے بر خلاف ہیں ۔ ( اول گواہ نے جواب نہ دیا پھر اپنے وکیل سے یہ صلاح لے کر جوابدوں یا نہ دوں کہا ) کہ مرزا صاحب کی نسبت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ ایک خراب فتنہ انگیز اور خطر ناک آدمی ہے اچھا نہیں ہے مرزا صاحب کی اپنی تصنیفات سے ہم نے رائے مذکور قائم کی ہے۔ عیسوی مذہب کے برخلاف بھی مرزا صاحب نے قيه حاشیه لائق نہیں ہو سکتا لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔ میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخر یبوست دماغ سے وہ مجنون ہو گئے اور بقیہ عمران کی دیوانہ پن میں گذری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہو گئے۔ انسانوں کے دماغی قومی ایک طرز کے نہیں ہیں۔ پس ایسے اشخاص جن کے فطرتاً قوی ضعیف ہیں ان کو کسی قسم کا جسمانی مجاہدہ موافق نہیں پڑ سکتا اور جلد تر کسی خطرناک بیماری میں پڑ جاتے ہیں۔ سو بہتر ہے کہ انسان اپنی نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیار رکھے۔ ہاں اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی الہام ہو اور شریعت غراء اسلام سے منافی نہ ہو تو اس کو بجالا نا ضروری ہے لیکن آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔ پس ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پاکر جسمانی سختی کشی کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجالانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا یہ تو سب کچھ