کتاب البریہ — Page 188
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۸ كتاب البرية سے مرزا صاحب نے کی تھی وہ پوری نہ ہوئی ۔ اور صرف پیشگوئی برخلاف لیکھرام کے جو ہندوؤں ۱۵۶ کے واسطے تھی باقی تھی۔ پیشگوئیوں کے پورا نہ ہونے کے واسطے مرزا صاحب کو آمدنی میں نقصان پہنچا۔ بعد مرگ لیکھرام کے مرزا صاحب نے ایک اشتہار (حرف M) جاری کیا جس میں وہ لیکھرام کے قتل کا ذکر کرتے ہیں (اشتہار پیش کیا گیا ) ایک اور اشتہار جاری ہوا تھا ( حرف N) مرزا صاحب کی طرف سے جس میں مرزا صاحب ایک اور اشتہار پیش کیا جاتا ہے ( حرف D) جس میں عبداللہ آتھم کے مر جانے پیشگوئی بابت صفائی سے تحریر ہو جانے کا مرزا صاحب نے ذکر کیا ہے۔ بسوال عدالت ایک خط امرتسر سے عبدالحمید نے قادیاں کسی شخص کے نام ۱۵۶ بقيه حاشيه اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہوتا تھا۔ کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیوی کدورتوں سے پاک ہے۔ اگر چہ حضرت مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام بھی سالانہ مقرر تھا اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔ مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے۔ اور بارہا کہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ ۱۵۵ جلد میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں بڑی صفائی سے پوری ہوگئی ہیں۔ سلطان محمد یعنی احمد بیگ کا جو داماد ہے اس کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس میں احمد بیگ اس کا خسر بھی شامل تھا اور پیشگوئی میں شرط تو ہ تھی۔ چنانچہ احمد بیگ نے شوخی اور تکذیب پر اصرار کیا اس لئے میعاد کے اندرفوت ہو گیا دیکھو یہ پیشگوئی کیسی صفائی سے پوری ہوئی ۔ رہا اس کا داماد سواحمد بیگ کی موت نے ان سب پر لرزہ ڈال دیا اور لرزاں اور ترساں ہو گئے ۔ اس لئے خدا نے اس کے داماد سلطان محمد کو کسی اور وقت تک مہلت دیدی اور آتھم بھی الہامی شرط کی وجہ سے اور اخفائے شہادت سے بموجب ہمارے الہام کے مر گیا۔ پھر یہ کیسا ظلم ہے کہ سچ کو جھوٹ سمجھتے ہیں ۔ منہ