کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 630

کتاب البریہ — Page 187

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۷ كتاب البرية کوئی پیشگوئی جو میری نسبت نقصان یا موت وغیرہ کی کی جائے اس کو نقض امن تصور کیا جاوے۔ بیاس پر ایک زندہ سانپ پکڑا گیا تھا تو عبدالحمید نے بڑی منت اور زاری کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا ہے کہ جب سانپ کوئی پکڑا جائے تو ہمارے پاس لانا ۔ حالانکہ ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا تھا۔ دستخط حاکم نقل بیان مشموله مقدمہ عدالت فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور مرجوعه فیصلہ نمبر بسته نمبر مقدمه ور اگست ۹۷ زیر تجویز از محکمه ۳/۳ سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب بنام مرزاغلام احمد قادیانی جرم ۱۰۷ ضابطہ فوجداری مہر عدالت دستخط حاکم 15/8/97 تتمہ بیان ڈاکٹر کلارک صاحب با قرار صالح ۱۲ اگست ۹۷ پیشگوئی جو بر خلاف سلطان محمد کے مسلمانوں سے کی گئی تھی اور عبداللہ آتھم کی بابت جو عیسائیوں هر کسی از ظن خود شد یار من وز درون من بخست اسرار من اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔ مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا اور میرے والد صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے ۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر نا کامی تھی ۔ کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا ۔ اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب علم اور حزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے ۔ بقيه حاشيه ۱۵۵