کتاب البریہ — Page 175
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۵ كتاب البرية لگا دی۔ حالات قتل کے عجیب ہیں۔ قاتل نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہو گیا تھا اور اب پھر ہندو ہونا چاہتا ہوں ۔ اس نے اپنا رسوخ اور اعتبار لیکھر ام کے ساتھ پیدا کیا اور یہ واقعہ قتل اس کے چند ہفتہ بعد ظہور میں آیا یہ قتل عام طور پر نسبت مرزاغلام احمد کے قریباً منسوب کیا جاتا ہے۔ میں ایک کتاب مصنفہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پیش کرتا ہوں حرف E جس میں وہ مرزا صاحب کو اس قتل کا الزام لگاتے ہیں جید میں نے مرزا صاحب کچھ کچھ کتاب حرف E کو دیکھا ہے ) مرزا صاحب نے ۲۲ مارچ ۹۷ کو ایک بل ضیاء الاسلام پر لیس قادیان شائع کیا جو اس امر پر بڑا زور دیتا ہے کہ ہم کو خبر تھی کہ لیکھرام ۱۶ مارچ ۹۷ء کو 1 بجے شام کے مارا جاوے گا۔ مگر واقعہ کے بعد یہ بل شائع کیا گیا تھا اور کہ یہ امر ہماری پیشگوئی کے مطابق تھا ۔ ( جواب مرزا صاحب ۱۳۵ بقيه حاشيه سے باغوں کو کاٹ دیا گیا اور بعض مسجد میں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا ۔ اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی ۱۴۴ جلایا گیا جس میں سے پانسونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا اور آخر سکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ تمام مردو زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے ۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی ۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیاں میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنائی تھی ۔ سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے ۱۳۵ اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لودھیا نہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ نوٹ :۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد حسین نے ضرور کلارک کو کہا ہوگا ک لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے لعنة الله على الكاذبين ـ مـنه