کتاب البریہ — Page 174
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۷۴ كتاب البرية ہمارے برخلاف ہو گئے ۔ جب محمد یوسف خاں عیسائی ہوا اس کو مسلمانوں نے پوچھا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی آتھم صاحب کی بابت پوری کرنے آئے ہو۔ یہ بات خلوت ۱۴۴ میں انہوں نے پوچھی تھی ۔ پیشگوئی جو نسبت احمد بیگ کے داماد کے ہوئی وہ پوری ☆ نہیں ۔ بقيه حاشيه ہوئی پیشگوئی جو عیسائیوں سے آتھم صاحب کی بابت تھی وہ بھی پوری نہیں ہوئی ۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مرزا صاحب کی عزت اور آمدنی میں فرق آیا دوکان اس کی بند ہوگئی اور لوگ ٹھٹھا کرنے لگے ۔ اب صرف پیشگوئی برخلاف ہندوؤں کے باقی رہی تھی کچھ عرصہ گذرا ہے کہ لیکھر ام قتل کیا گیا جس کے مرنے سے عام آگ ملک میں اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جا سکتے تھے ۔ اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اول فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیاں میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا ۔ اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹی گئی ۔ کئی مسجد میں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب یہ پیشگوئی بھی شرطی تھی جس کا ایک حصہ پورا ہو گیا یعنی احمد بیگ میعاد کے اندرفوت ہو گیا اور اس کے مرنے پر اس کے عزیزوں نے نہایت درجہ خائف اور ترساں ہو کر شرط کو پورا کیا اور ضرور تھا کہ شرط کے موافق ظہور میں آتا۔ مگر یہ بھی ضرور ہے کہ دلوں کے سخت ہونے پر خدا کے اصل ارادہ کی پیشگوئی کے مطابق تکمیل ہو جائے جیسا کہ آتھم کی پیشگوئی میں شرط بھی پوری ہوئی اور آخرموت کی سزا بھی ملی غرض ساری کی ساری پیش گوئی پوری ہوئی ۔ منہ یہ کہنا کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی سچائی کا خون کرنا ہے۔ آتھم نے آپ اپنے قول اور فعل سے ثبوت دے دیا کہ وہ پیشگوئی کے اثر سے ڈرتا رہا۔ اس لئے ضرور تھا کہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتا پھر دوسرا الہام یہ تھا کہ وہ بعد اخفائے شہادت جلد فوت ہو جائے گا۔ سو وہ فوت ہو گیا۔ اب دیکھو کیسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ منہ