کتاب البریہ — Page 166
۱۳۸ روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۶ كتاب البرية کرتا ہوں۔ اور اس کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آکر بیان کرے کہ کیوں زیر دفعہ ۱۰۷ ضابطہ فوجداری حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے میں ہزار روپیہ کا مچلکہ اور بیس ہزار روپے کی دو الگ الگ ضمانتیں نہ لی جائیں ۔ دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر یکم اگست ۹۷ میں نے وارنٹ کا جاری کرنا روک دیا ہے۔ کیونکہ یہ مقدمہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ دیکھو انڈین لاور پورٹ نمبرا اکلکتہ ۷۱۳ ۱۲۰ کلکتہ و۱۳۳ اور ۶ الہ آباد و۲۶۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے پاس کارروائی کے لئے بھیجا جاوے۔ بقيه حاشيه دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ را گست ۹۷ تھے۔ اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے ان کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال الله اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا۔ اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔ یہاں تک کہ چاکی پینے والی عورتیں بھی پنج وقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں۔ اور گرد ونواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیاں کو جو اس وقت اسلام پور کہلاتا تھا مکہ کہتے تھے۔ کیونکہ اس پُر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی ۔ اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا اور قادیاں میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔ میں نے خود اس زمانہ سے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیاں کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا جس میں حامیان دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صدہا پودے پائے جاتے تھے۔ اور اس نواح میں یہ واقعات نہایت مشہور ہیں کہ میرزا گل محمد صاحب مرحوم