کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 630

کتاب البریہ — Page 165

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۶۵ كتاب البرية بعدالت اے ای مارٹینو صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر مستغیث قیصرہ ہند زیر دفعه ۱۰۷ بنام مرزاغلام احمد صاحب قادیاں حکم عبد الحمید اور ڈاکٹر کلارک کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عبد الحمید کو ڈاکٹر کلارک ساکن امرتسر کے قتل کرنے کی ترغیب دی۔ اس بات کے یقین کرنے کے لئے وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد مذکور نقض امن کا مرتکب ہوگا ۔ یا کوئی قابل گرفت فعل کرے گا ۔ جو باعث نقض امن اس ضلع میں ہوگا ۔ اس بات کی خواہش کی گئی ۱۳۷ ہے کہ اس سے حفظ امن کے لئے ضمانت طلب کی جائے ۔ واقعات اس قسم کے ہیں کہ جس سے اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ کا شائع کرنا زیر دفعہ ۱۱۴ ضابطہ فوجداری ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ لہذا میں اس کی گرفتاری کے لئے وارنٹ جاری مگر کاغذات سے یہ پتہ ملتا ہے کہ اس ملک میں بھی وہ معزز امراء اور خاندان والیان ملک میں سے تھے اور انہیں کسی قومی خصومت اور تفرقہ کی وجہ سے اس ملک کو چھوڑ نا پڑا تھا۔ پھر اس ملک میں آ کر بادشاہ وقت کی طرف سے بہت سے دیہات بطور جا گیران کو ملے۔ چنانچہ اس نواح میں ایک مستقل ریاست ان کی ہوگئی ۔ بقيه حاشيه سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پر دادا صاحب میرزا گل محمد ایک نامور اور مشہور رئیکس اس نواح کے تھے ۔ جن کے پاس اس وقت یہ گاؤں تھے اور بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے تاہم ان کی جوانمردی ۱۳۷ اور فیاضی کی یہ حالت تھی کہ اس قدر قلیل میں سے بھی کئی گاؤں انہوں نے مروت کے طور پر بعض تفرقہ زدہ مسلمان رئیسوں کو دے دیئے تھے جو اب تک ان کے پاس ہیں ۔ غرض وہ اس طوائف الملوکی کے زمانہ میں اپنے نواح میں ایک خود مختار رئیس تھے ۔ ہمیشہ قریب پانسو آدمی کے یعنی کبھی کم اور کبھی زیادہ ان کے دستر خوان پر روٹی کھاتے