خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 64

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۶۴ خطبه الهاميه تبالون - وشهدت لى الارض والسماء والماء پیروانی دارید ۔ و برائے من زمین و آسمان تمہیں کچھ پرواہ نہیں ۔ اور میرے لئے و آب زمین اور آسمان اور پانی والعفاء فلا تخافون - وتظاهر لي العقل والنقل و خاک گواهی دادند پس پیچ نمی ترسید و عقل و نقل و علامت ها اور مٹی نے گواہی دی لیکن تم بالکل نہیں ڈرتے اور عقل اور نقل اور علامتیں والعلامات والآيات - وتظاهرت الشهادات و و نشان ها گواه یکدیگر شدند و دیگر گواہی ہا اور نشان ایک دوسرے کے گواہ ہوئے اور دوسری گواہیوں و اور الرؤيا والـمـكـاشـفـات - ثم انتــم تـنـكـرون - وان خواب ها و مکاشفات یکدیگر را قوت دادند بازشما انکار می کنید خوابوں اور مکاشفات نے آپس میں ایک دوسرے کو قوت دی پھر تم انکار کرتے ہو و ایں اور لها شانا عظيما لقوم يتدبرون - وطلع نشانها را شا نے عظیم است برائے آنا نکہ تدبر می کنند و ستاره ذوالسنین ان لوگوں کی نظر میں جو تدبر کرتے ہیں ان نشانوں کی بڑی شان ہے اور ذوالسنین ذو السنين - ومــــــي من هذه المائة خمسها طلوع کرد واز صدی حصہ پنجم آن گذشت ستارہ نے طلوع کیا اور صدی میں سے پانچواں حصہ گزر گیا إلا قليل من سنين - فــايــن الـمـجـدد ان كنتم مگر چند سال مگر چند برس پس مجدد کجاست ! اگر پس اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ مجدد