خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 62

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۶۲ خطبه الهاميه حربة ابيد بها عادات الظلم والذنوب - وفي حربه است بلاک می کنم باں عادتہائے ظلم و گناه را و در اور ہتھیار ہے اس کے ساتھ میں ظلم اور گناہ کی عادتوں کو ہلاک کرتا ہوں الاخرى شربة اعيدبها حياة القلوب - فاس دست دیگر شربت است که بدال زندگی دلها دوباره می بخشم تبری دوسرے ہاتھ میں شربت ہے جس سے میں دلوں کو دوبارہ زندہ کرتا ہوں ۔ ایک کلہاڑی للافناء - وانفاس للاحياء - اما جلالي فيما قصد برائے فنا کردن است و دمها برائے زنده کردن مگر جلال من ازیں سبب است که فنا کرنے کے لئے ہے اور دم زندہ کرنے کے لئے ۔ میرا جلال اس وجہ سے ہے کہ کابن مريم استيصالي - واما جمالي فيما فارت ہمچو ابن مریم قصد بیخ کنی من کرده اند و جمال من ازیں است که لوگوں نے حضرت عیسی کی طرح میری بیخ کنی کا قصد کیا ہے اور جمال اس وجہ سے کہ رحمتی کسیدی احمد لاهدى قوما غفلوا رحمت من ہمچو سید من احمد در جوش است تا قومی را راه نمایم که از میری رحمت میرے سردار احمد کی طرح جوش میں ہے تا میں اس قوم کو راہ دکھلاؤں جو عن الرب المتعالي - أفـــانتـــم تــعـجبـون خدائے بزرگ تر خود غافل اند چه شما ازیں امر تعجب می کنید اپنے بزرگ رب سے غافل ہیں کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو ۲۹ و الى الزمان وضرورته لا تلتفتون - الا ترون و سوئے زمانہ و ضرورت آں التفات نمی کنید آیا نمی بینید که اور زمانہ اور اس کی ضرورت کی طرف توجہ نہیں کرتے کیا تم نہیں دیکھتے کہ