خطبة اِلہامِیّة — Page 45
روحانی خزائن جلد ۱۶ لده خطبه الهاميه ان الضحايا هي المطايا - توصل الى رَبِّ البرايا به به تحقیق قربانی ہا کہ ہستند ہماں سواری ہا هستند بهہ تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ سوئے خدا تعالی می برند کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں وتمحو الخطايا - وتدفع البلايا - هذا ما بلغنا و خطاها را محومی کنند و بلاها را دفع می کنند - ایں آں امر است که از اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا من خير البرية - عليه صلواة الله والبركات بہترین مخلوق یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بما رسیده است ـ بر و درود خدا و برکات صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں السنية - وإنه أو ما فيه الى حكم الضحية بزرگ باد و به تحقیق او اشاره کرده است دریں حدیث سوئے حکمت ہائے قربانی اور آنجناب نے ان کلمات میں قربانیوں کی حکمتوں کی طرف فصیح کلموں کے ساتھ بكلمات كالدرر البهية - فالأسف كل الأسف به سخنانے کہ ہمچو در ہائے روشن هستند پس افسوس و کمال افسوس است جو موتیوں کی مانند ہیں اشارہ فرمایا ہے پس افسوس اور کمال افسوس ہے کہ ان اكثر الناس لا يعلمون هذه النكات الخفية کہ اکثر مردم این نکتہ ہائے باریک را نہ مے دانند اکثر لوگ ان پوشیدہ نکتوں کو نہیں سمجھتے ولا يتبعون هذه الوصية - وليس عندهم و پیروی این وصیت اور اس وصیت کی پیروی نہیں کرتے نه می کنند ۔ و نزد ایشان اور ان کے نزدیک الد