خطبة اِلہامِیّة — Page 252
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵۲ خطبه الهاميه إلى قوله "إني أعلم ما لا تعلمون، عبرة للمجترئين۔ در زمین تا قوله من میدانم آنچه شما نمی دانید وایں بہت آں فرمود که جرات کنندگان را عبر تے زمین میں اس آیت تک کہ انی اعلم مالا تعلمون ۔ اور یہ اس لئے فرمایا کہ جرات کرنے والوں کو عبرت وما جرت هذه الأقوال على ألسنهم إلا ليتموا حاصل آید و این گفتا ر ہا بر زبان ایشاں بہت آں جاری شده که خبر خداوندی را حاصل ہو۔ اور یہ باتیں ان کی زبان پر اس لئے جاری ہوئیں تا کہ خدا تعالیٰ کی اس نبأ الله الذي سبق من قبل وليثبتوا مــضـــاهــاتــي اتمام کنند که پیشتر مذکور شده بود و بہت آنکه مشابهت من با آدم خبر کو پوری کریں جو پہلے مذکور ہو چکی اور اس لئے کہ میری مشابہت بآدم في تهمة الفساد وسفك الدماء ، فأجابهم در و ثابت کنند پس خدا تهمت فساد خونریزی ایشان را آدم سے فساد اور خونریزی کی تہمت میں ثابت کریں پس خدا نے ان کو الله بوحيه وقد طبع وأشيع هذا الوحى قبل بذریعہ اپنی وحی خود وحی کے جواب ذریعہ داد سے و جواب این دیا وحی پیش از اور وحی یہ قتل المشرك الذي يزعمون فيه كأني قتلته قتل آل مشرک که درباره آن گمان می کنند که من او را کشت ام اس مشرک کے قتل سے پہلے جس کی نسبت اُن کا گمان ہے کہ میں نے اُسے قتل کیا ہے وقبل موت نصراني يزعمون فيه كأن أصحابي و پیش از موت آل نصرانی که نسبت باد گمان می برند که دوستان من برائے اور اس نصرانی کی موت سے پہلے جس کی نسبت ان کا گمان ہے کہ میرے دوستوں نے