خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 530

خطبة اِلہامِیّة — Page 251

روحانی خزائن جلد ۱۶ ۲۵۱ خطبه الهاميه أعلم ما لا تعلمون ۔ وقالوا قُتل فلان مظلوما، (۱۲۵) و گفتند که فلاں مظلوم کشته شد مے دانم آنچه شما نمیدانید جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور کہا کہ فلاں مظلوم مارا گیا وہ و وأريد قتل فلان من المتنصرين، ونسبوا قتل فلال از نصاری اراده کرده شده است و قتل را بمن اور فلانے عیسائی کے قتل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ اور قتل کو القتل إلى ليدخلونى في الذين يفسدون في مرا در آنکساں داخل کنند که در زمین فساد نسبت دادند تا میری طرف منسوب کیا تا کہ مجھے اُن لوگوں میں داخل کریں جو زمین میں فساد الأرض ويقتلون الناس ظلما وفسادًا، والله برپا می کنند کرتے ہیں و از بی داد اور ظلم اور فساد سے و و خدا فساد مردم را می کشند لوگوں کو مار ڈالتے ہیں اور خدا يعلم أنى برىء منها، وإن كلماتهم هذه ليست می داند که من ازیں ہا بری هستم و این گفتار ہائے او شاں نسبت بمن بجز جانتا ہے کہ مَیں اُن سے بری ہوں اور اُن کی یہ باتیں جو میری نسبت ہیں بالکل جھوٹی إلا بهتان على، والله عـلـيـم بالظالمين، وهنــاك بهتان و و دروغ نیست خدا ظالمان را نیکو می داند و از بینجاست که اور بہتان ہے اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور اسی لئے أوحى الله إلى حكاية عن قولهم أتجعل فيها خدا سوئے من از زبان ایشان وحی کرد که آیا تو خلیفہ مے کنی خدا نے میری طرف انہی کی زبانی وحی کی کہ ” کیا تو خلیفہ بناتا ہے