خطبة اِلہامِیّة — Page 115
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۱۵ خطبه الهاميه الحكم من الله ولا حكم الا حكمه الاجلى - اولم فیصله کنند ه از خدا تعالی است و حکم حکم اوست خدا کی طرف سے فیصلہ کرنے والا ہے اور اسی کا حکم حکم ہے آیا کیا تكفكم اية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي او عندكم صحف کفایت نمی کند شما را آیت فلما توفیتنی یا نزد شما دیگر نسخہائے قرآن آيت فلما توفیتنی تم کو کفایت نہیں کرتی یا تمہارے پاس اور قرآن ہیں اخرى - وان سورة النور تكذبكم والفاتحة و به تحقیق سورة نور تکذیب شما می کند اور سچ یہ ہے کہ سورہ نور تمہیں جھٹلاتی ہے موجود هستند و سوره فاتحه اور سورہ فاتحہ تفتح عـلـيـكــم بــاب الهدى - فان الله بدء فيها (۲۸) بر شما راہ ہدایت مے کشاید تمہارے لئے ہدایت کی راہ کھولتی ہے چنانچہ خدا تعالی در سورۃ فاتحہ چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس میں من المبدء وجعل اخر الازمنة زمن الضالين از مبدء عالم ابتدا کرده است و سلسله این دنیا را بر زمانه ضالین ختم کرده مبدء عالم سے ابتدا کیا ہے اور دنیا کے اس سلسلہ کو ضالین کے زمانہ پرختم کیا ہے و وانهم هم النصارى - كما جاء من نبينا المجتبى آں گروہ نصاری است چنانچه در احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آمده است اور وہ نصاری کا گروہ ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں آیا ہے فاين فيها ذكر دجالكم فاروناه من القرآن پس کجاست ذکر دجال شما در سورة فاتحه پس بنمائید ما را از قرآن اب بتاؤ تمہارے دجال کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کہاں ہے اگر ہو تو قرآن میں ہمیں دکھلاؤ المائدة : ١١٨