خطبة اِلہامِیّة — Page 114
روحانی خزائن جلد ۱۶ ۱۱۴ خطبه الهاميه وما روى عن خير الورى - وقال اظلمهم اقتلوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرموده بود و شخصی که ظالم تر از همه بود او به نسبت من گفت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اور ایک شخص جو سب سے بڑا ظالم تھا اس نے هذا الرجل اني اخاف أن يبدل دينكم او که این شخص را بکشید که من می ترسم که در دین شما خلل اندازد و از و در نسبت کہا کہ اس شخص کو قتل کرو کہ میں ڈرتا ہوں کہ تمہارے دین میں خلل ڈالے گا اور اس سے میری يحطكم اذا علا - يا اهل الحسد والهوى - ويلكم وجاہت ہائے شما فرق آید ۔ اے اہل حسد وہوئی بر شما واویلا است تمہاری وجاہت وعزت میں فرق آجائے گا۔ اے حاسدو! تم پر افسوس ہے کہ تم لم تؤثرون هذه الحيوة الدنيا - وان القرآن ایں ادنی زندگی دنیا را اختیار می کنید و به تحقیق قرآن اور واقعی قرآن نے آیا اس ذراسی دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو يشهد ان خاتم خلفاء هذه الامة رجل گواهی داده است که خاتم الخلفاء ایں امت از ہمیں امت است ۔ گواہی دی ہے کہ اس امت کا خاتم الخلفاء اس امت میں سے ہے من الأمة وان المسيح من الــمــوتـــى - ومن و حضرت مسیح علیہ السلام وفات یافته اند اور حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں و ازاں شخص اور اس شخص سے اظلم ممن الذى عصى القرآن وابي - وهو ظالم تر کیست که نافرمانی قرآن کرد و سرباز زد و ہماں زیادہ ظالم کون ہے کہ قرآن کی نافرمانی کر کے روگردانی کرے حالانکہ وہ