کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 550

کشف الغطاء — Page 22

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲ نجم الهدى اوصلهم إلى أعلى مدارج المعرفة، اعلیٰ درجوں تک پہنچایا۔ اور اس سے پہلے وہ وكانوا من قبل يشركون ويعبدون شرک کرتے اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے اور تماثيل من الحجارة، ولا يؤمنون خدائے واحد اور قیامت پر ان کو ایمان نہ تھا اور بالله الأحد الصمد ولا بيوم الآخرۃ وہ بتوں پر گرے ہوئے تھے اور خدا تعالیٰ کی وكانوا يعكفون على الأصنام، قدرتوں کو بتوں کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ويعزون إليها كل ما هو قدر الله الحكيم العلام، حتى عزوا إليها یہاں تک کہ مینہ کا برسانا اور پھلوں کا نکالنا اور بچوں کو رحموں میں پیدا کرنا اور ہر ایک امر جو إنزال المطر من الغمام، وإخراج موت اور زندگی کے متعلق تھا تمام یہ امور بتوں کی الثمار من الأكمام، وخلق الأجنة في الأرحام، وكل أمر الحياة والحمام۔ وكان يعتقد كل منهم وثنه ما طرف منسوب کر رکھے تھے اور ہر ایک ان میں سے اعتقاد رکھتا تھا کہ اس کا ایک بڑا بھارا مددگار بت ہی ہے جس کی وہ پوجا کرتا اور وہی معوانا، وعند النوائب مستعانا وعند الأعمال ديانا۔ وكان كل بت مصیبتوں کے وقت اس کی مدد کرتا ہے اور منهم يهرع إلى تلك الحجارة عملوں کے وقت اس کو جزا دیتا ہے اور ہر ایک ان حريصًا، ويحفد إليها ميں سے اُن ہی پتھروں کی طرف دوڑتا تھا اور و از تهذیب بر کمال مدارج معرفت رسانید و پیش ازاں وقت مشرک بودند و بت ہارا می پرستیدند و با خدائے یگانہ بے نیاز و روز پسین ایمان نداشتند و بر پرستش بُت ہانگون افتاده بودند و قدرت ہائے یزدان را نسبت به بتان میدادند چنانچه فرود آوردن باران و برون دادن بر و بار را از آستین شاخها و آفریدن بچه ها را در شکم و هر امر مرگ و زیست را منسوب به بت ها می کردند ۔ و ہر تنے از انها بت خود را یا ور و در هنگام بلا ہا یا ور و سازگار و پاداش دهنده کارگمان می برد۔ نادانان بجان و دل بسوئی بتان می دویدند و روئی فریاد و نیاز با نهامی آوردند ۔ غرض همچنین از