کشف الغطاء — Page 389
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۹ ايام الصلح دنیا میں آؤں گا تو بروز کے طور پر یہ آنا ہو گا اور اس سے تو یہ ثابت ہو گا کہ وہ دنیا سے خارج اور وفات یافتہ ہیں۔ اور جب کہ دنیا سے گئے ہوئے لوگوں کا پھر واپس آنا بجسمهم العنصري عادت اللہ ثابت نہیں ہوتی تو پھر کیا وجہ کہ اس قول کے اگر صحیح ہو سنت اللہ کے مخالف معنے نہ کئے جائیں اور کیا وجہ کہ یہ آنا بروزی طور پر نہ مانا جائے جیسا کہ حضرت یوحنا نبی کا دوبارہ دنیا میں آنا تھا کیا حاجت ہے کہ ایسے مجہول الکیفیت معنے لئے جاویں جن کا نمونہ خدا تعالیٰ کی عادتوں میں موجود نہیں اور جن کی پہلی اُمتوں میں کوئی <mark>نظیر</mark> نہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ہمیں حث اور ترغیب دیتا ہے کہ تم ہر ایک واقعہ اور ہر ایک امر کی جو تمہیں بتلایا گیا ہے پہلی اُمتوں میں <mark>نظیر</mark> تلاش کرو کہ وہاں سے تمہیں <mark>نظیر</mark> ملے گی ۔ اب ہم اس عقیدے کی <mark>نظیر</mark> کہ انسان دنیا سے جا کر پھر آسمان سے دوبارہ دنیا میں آ سکتا ہے کہاں تلاش کریں اور کس کے پاس جا کر ردویں کہ خدا کی گذشتہ عادات میں اس کا کوئی نمونہ بتلاؤ ؟ ہمارے مخالف مہربانی کر کے آپ ہی بتلاویں کہ اس قسم کا واقعہ کبھی پہلے بھی ہوا ہے اور کبھی پہلے بھی کوئی انسان ہزار دو ہزار برس تک آسمان پر رہا؟ اور پھر فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے اُترا۔ اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو کوئی <mark>نظیر</mark> اس کی گزشتہ قرون میں ضرور ملتی ۔ کیونکہ دُنیا تھوڑی رہ گئی ہے اور بہت گزر گئی اور آئندہ کوئی واقعہ دنیا میں نہیں جس کی پہلے <mark>نظیر</mark> نہ ہو۔ حالانکہ جو امر سنت اللہ میں داخل ہے اُس کی کوئی <mark>نظیر</mark> ہونی چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صاف فرماتا ہے۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ انُ ﴿۱۴﴾ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ لے یعنی ہر ایک نئی بات جو تمہیں بتلائی جائے تم اہل کتاب سے پوچھ لو وہ تمہیں اس کی <mark>نظیر</mark> یں بتلائیں گے لیکن اس واقعہ کی یہود اور نصاری کے ہاتھ میں بجز ایلیا کے قصے کے کوئی اور <mark>نظیر</mark> نہیں اور ایلیا کا قصہ اس عقیدہ کے برخلاف شہادت دیتا ہے اور دوبارہ آنے کو بروزی رنگ میں بتلاتا ہے۔ اور ایک بڑی خرابی اس عقیدہ میں یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسی علیہ السلام کے خوارق ذاتی میں ایک خصوصیت پیدا ہو کر نصاری کو اپنے عقائد باطلہ میں اس سے مددملتی ہے ل النحل: ۴۴