کشف الغطاء — Page 388
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۸ ايام الصلح یہ تمہارے عقیدے کے مخالف ہے کیونکہ تمہارے نزدیک عیسی ابن مریم اموات میں داخل نہیں بلکہ آسمان پر بحیات جسمانی زندہ موجود ہے۔ اب بتلاؤ کہ اگر عیسائیوں کی طرف سے یہ سوال پیش ہو تو تمہارے پاس کیا جواب ہے؟۔ پھر ایک جگہ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ کو داخل بہشت ذکر فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ لَا يَسْمَعُونَ حَسِيْسَهَا وَهُمْ فِي مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خُلِدُونَ ، یعنی جو لوگ ہمارے وعدہ کے موافق بہشت کے لائق ٹھہر چکے ہیں وہ دوزخ سے دور کئے گئے ہیں اور وہ بہشت کی دائمی لذات میں ہیں۔ تمام مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے اور اس سے بصراحت و بداہت ثابت ہے کہ وہ بہشت میں ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ وہ وفات پاچکے ہیں ورنہ قبل از وفات بہشت میں کیونکر پہنچ گئے ؟ علاوہ اس کے وہ حدیث جو طبرانی اور کتاب ما ثبت بالسنة ۱۴۳ میں لکھی ہے اس سے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی موت ہی ثابت ہوتی ہے کیونکہ اُن میں لکھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس برس کی ہوئی تھی ۔ محدثین نے اس حدیث کو اوّل درجہ کی صحیح مانا ہے اور کوئی جرح نہیں کیا گیا۔ اب بتلاؤ کہ اب بھی حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہوئی یا نہیں؟ اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ بخاری کی معراج کی حدیثوں میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو معراج کی رات بزمرہ اموات دیکھا اور دوسرے عالم میں پایا اگر وہ زندہ ہوتے تو مردوں سے اُن کا کیا تعلق تھا اور ی نبی فوت شدہ کے پاس کیونکر وہ رہ سکتے تھے۔ مردوں کے پاس وہی رہتا ہے جو مردہ ہو۔ کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے کہو زندوں کا مردوں سے ہے کیا جوڑ یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے اور اگر یہ قول ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا تھا کہ پھر میں الانبياء : ۱۰۲ ۱۰۳