کشف الغطاء — Page 380
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۰ ايام الصلح دنیوی یعنی سلطنت اور حکومت وغیرہ سب لوازمات اُن کو حاصل ہوں گے۔ اور حضور علیہ السلام کی ذاتیات پر یہ نکتہ چینیاں کرتے ہیں کہ باوجود مقدرت کے حج نہیں کرتے۔ ا ہزاروں روپوں کے انعامات کے اشتہارات دیتے ہیں لیکن حج کو نہیں جاتے ۔ براہین کا بقیہ نہیں چھاپتے ۔ آتھم کی پیشگوئی غلط نکلی اس کے رجوع کو ہم یقین نہیں کرتے۔ لیکھرام کی پیشگوئی میں اُس کے قتل ہونے کی تصریح نہیں صرف نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ کا جملہ ہے جس میں قتل ہونے کا بیان نہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ سچ ہی نکلے تو زہے نصیب لیکھرام کہ وہ ایک کم حیثیت آدمی تھا لیکن اس پیشگوئی کے سبب سے وہ برگزیدہ قوم گنا گیا شہید کے خطاب سے ممتاز ہوا۔ اُس کے پسماندگان کے واسطے ہزاروں روپوں کا چندہ ہوا ۔ یہ ہوا وہ ہوا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی پیشگوئی تو اپنے حق میں میں چاہتا ہوں ۔ کسوف خسوف کی حدیث موضوع ہے۔ مسیح کی اور مماثلت تو مرزا صاحب میں کچھ بھی نہیں صرف ایک مماثلت ہے یعنی دُشنام رہی۔ گورنمنٹ کی خوشامد ۔ عربی تصنیفات کی بے نظیری کا دعوئی ہی غلط ہے کیونکہ قرآن کریم کے سوا یہ دعوی توریت وانجیل و زبور واحادیث نبوی نے بھی نہیں کیا۔ حالانکہ وہ بھی الہامی ہیں۔ راولپنڈی والے بزرگ کے حالات سے میرزا صاحب واقف تھے اور جانتے تھے کہ یہ شخص وہمی اور بزدل ہے اس واسطے اُن کے حق میں جھٹ پیشگوئی کر دی وغیرہ وغیرہ من الخرافات و الهذيانات خاکسار عبد المجید از لود یا نه محله اقبال گنج ۶ رجون ۱۸۹۸ء ۱۳۶ اب ہم حق کے طالبوں کے لئے ان بیہودہ اقوال کارڈ لکھتے ہیں تا معلوم ہو کہ ہمارے مخالف مولوی اور اُن کے اس قسم کے شاگرد کس قدر سچائی سے دُور جا پڑے ہیں۔ قوله - مسیح آسمان پر نہیں بلکہ اسی جہان میں خدا نے اُس کو چھپایا ہوا ہے۔ اقول ۔ یہ دنیا میں کسی کا مذہب نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بعض مخالف مولوی اب آسمان پر چڑھانے سے نومید ہو کر اپنے فرضی مسیح کو زمین میں چھپانے کی فکر میں لگ گئے ہیں۔