کشف الغطاء — Page 14
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۴ نجم الهدى والديار، ومعناه أنه حمد حمدًا كثيرًا جاتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ بہت تعریف کیا واتفق عليه الأخيار من غير الإنكار گیا ۔ اور یہ دونوں اسم ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ابتداء دنیا سے وضع کئے گئے ہیں۔ پھر وإن هذين الاسمين قد وضعا لنبينا من يوم بناء هذه الدار ، ثم يُعطيان بعد اس کے اس شخص کو بطور مستعار دیئے جاتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور للذي صار له كالاظلال والآثار، ومن اظلال و آثار ہو۔ اور جس شخص کو ان دونوں أعطى من هذين الاسمين بقبس فقد ناموں سے ایک چنگاری دی گئی تو اس کا دل کئی أنيـر قـلبـه بأنواع الأنوار، وقد جری قسم کے نوروں سے روشن کیا گیا۔ اور رسول مختار على شفتي الرسول المختار أن الله | کے لب مبارک پر جاری ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ آخری يرزق منهما عبدا له فی آخر الزمان | زمانہ میں ایک اپنے بندے میں یہ دونوں صفتیں جمع كما جاء في الأخبار، فاقرءوا کر دے گا جیسا کہ حدیثوں میں وارد ہے۔ پس ثم فكروا يا أولى الأبصار ۔ اے دانش مند و! ان حدیثوں کو پڑھو اور سوچو۔ فالغرض أن الأحمدية والمحمدية اب غرض یہ ہے کہ احمدیت اور محمدیت ایک ایسا امر أمر جامع دُعِي الموحدون إليه جامع ہے کہ تمام موحد اس کی طرف بلائے گئے ہیں و معنی این کلمه است بسیار ستودہ شدہ۔ ایں ہر دو نام برائی نبی ما ( صلی اللہ علیہ وسلم) از آغاز آفرینش موضوع شده و باز مستعار لایں ہر دو نام بکسے ہم کرامت می شود که از آن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) بمنزل ظل واثر باشد و هر که او را از این دو نام اخگری در کار کردند دل او بگوناگون نور ہاروشنی یافت و بر زبان وحی تر جمان آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) رفته که خدا تعالی شانه در زمانه پسین بنده را از بندگان خود به تحلیه این دو نام وتز بین این دو صفت ممتاز و مفتخر خواهد کرد پس ای دانشمندان احادیث بخوانید و نیکواند یشه بفرمائید۔ خلاصه احمدیت و محمدیت امر جامعی می باشد که همه موحدین بسوی آن خوانده شده