کشف الغطاء — Page 13
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳ نجم الهدى إلا بعد الاحتراق في نار محبة - جب تک کہ ایک شخص آتش محبت معبود حقیقی میں المعبود ۔ فمن ألقى نفسه في هذه جل نہ جائے اور جو شخص اُس آگ میں اپنے النار، فهو يحمد الله بقلب موجع تیں ڈال دے پس وہی اپنے دردمند دل اور و سر محو في الحبيب المختار ۔ وهو اس سر سے جو خدا میں محو ہے خدا کی تعریف کرے گا۔ اور وہ وہی شخص ہے جس کو آسمان الذي يُدعى في السماء باسم أحمد میں احمد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور قریب ويُقرّب ويُدخل في بيت العزة کیا جاتا ہے اور عزت کے گھر اور قصارة الدار وقصارة الدار، وهي دار العظمة میں داخل کیا جاتا ہے اور وہ عظمت اور جلال کا والجلال يُقال استعارة أن الله بناها | گھر ہے جو بطور استعارہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا لـذاتــه القهار ، ثم يعطيه لحماد وجهه نے اس کو اپنی ذات کیلئے بنایا پھر اس گھر کو فيكون له كالبيت المستعار، فيحمد | مایه بطور مستعار اُس کو دے دیتا ہے جو اس کی ذات هذا الرجل في السماء والأرض کا ثنا خوان ہو۔ پس مشخص زمین اور آسمان میں بأمر الله الغفّار، ويُدعى باسم خدا تعالیٰ کے حکم کے ساتھ تعریف کیا جاتا ہے۔ ۴ محمد في الأفلاك والبلاد اور آسمانوں اور زمین میں محمد کے نام سے پکارا لباس هستی نمی پوشد تا خرمن بود کسی از آتش محبت معبود حقیقی پاک نسوز در هر که بر سوختن در این آتش تن درد هد او تواند با دل دردمند و باستری که محو حبیب مختار شده ترانه ریز حمد بشود ۔ ہماں کس است که بر آسمان او را احمد گویند او نزدیک کرده شود و در بارگاه عزت و ایوان مقصود بار یا بد و آن مکان عزت و جلال است که از روئی استعارہ تواں گفت خدا آنرا جهت ذات خویش بنا ساخته و باز خدا آن خانه را بطور مستعار بکسے مستر د کند که شنا خوان اوست ۔ پس آن کس باذن الهی در آسمان و زمین ستوده و در آسمان وزمین بنام محمد یاد کرده شود