کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 550

کشف الغطاء — Page 318

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۸ ایام الصلح وفات مراد لی جائے اور پھر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اسی آیت کو منسوب کریں تو اُن کی حیات مراد لی جائے تو یہ تشبیہہ کیونکر ٹھہری ؟ یہ دونوں امر تو ایک دوسرے کے ضد واقع ہیں۔ اس سے زیادہ اور کوئی حماقت نہیں ہو گی کہ تشبیہہ میں مخالفت اور منافات تلاش کی جائے ہاں جس فرق کا مشبه مشبه به میں باوجود اشتراک امر مشابہت کے ہونا ضروری ہے۔ اس جگہ وہ فرق اس طرح پر ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس بات کا جواب دینا تھا کہ اُن کے مرنے کے بعد ان کی پرستش ہوئی اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جواب دینا تھا کہ آپ کی وفات کے بعد بعض لوگ اسلام کی سنتوں اور راہوں پر قائم نہ رہے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دی۔ اس اختلاف سے جو دو امتوں کی ضلالت میں پایا جاتا ہے مشبّہ اور مشبہ بہ کا فرق ظاہر ہو گیا اور یہی ہونا چاہیے تھا نہ یہ کہ مشبہ اور مشبہ بہ ایک دوسرے کے نقیض ہوں جیسے مردہ اور زندہ اور بزدل اور شجاع ۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ مولوی لوگ با وجود عقل رکھنے کے محض غلطی کی وجہ سے ایسی ایسی بیہودہ باتیں منہ پر لاتے ہیں بلکہ عمدًا اُن کا یہ ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کو دھوکا دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے قبول کرنے سے محروم رکھیں یہاں تک کہ اُن میں سے بعض لوگوں نے عوام میں یہ باتیں مشہور کر رکھی ہیں کہ مہدی موعود کی بڑی بھاری نشانی یہ ہے کہ اُس کے بدن میں بجائے خون کے دودھ ہوگا ۔ اس افترا کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک مہدی موعود کو قتل نہ کرو اور اس کی رگوں میں سے دودھ نہ نکلے اس کا سچا ہونا ثابت ہی نہیں ہوسکتا۔اسی لئے عوام میں مشہور ہے کہ انگریز جو چیچک کا ٹیکہ لگاتے ہیں وہ ٹیکہ نہیں بلکہ مہدی کی تلاش کر رہے ہیں اور آزماتے ہیں کہ جس کے بدن میں سے بجائے خون دودھ نکلے گا پس وہی مہدی ہے اس کو پکڑ لو ۔ حالانکہ اس گورنمنٹ دانشمند کو ان واہیات باتوں سے کچھ بھی تعلق نہیں کوئی ۸۳ مہدی ہو یا مسیح ہو اس سے ان کو کچھ غرض واسطہ نہیں جب تک کہ وہ بغاوت کے خیالات پھیلانے سے امورِ سلطنت میں خلل انداز نہ ہو اور مَفْسَدَه پردازی نہ کرے۔ غرض ان لوگوں نے ایسی ہی