کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 550

کشف الغطاء — Page 317

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۷ ايام الصلح کے طور پر مسیح موعود کے نزول کے ساتھ اسی کا لفظ ملانا کونسی غیر محل بات ہے؟ کیا قرآن میں نہیں ہے انْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَّسُولًا اور جس حالت میں قرآن شریف سے قطعی طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اور صحیح بخاری میں ان آیات کے معنے بھی وفات دینا ہی بیان کیا ہے۔ اور بڑے بڑے اماموں جیسے امام مالک اور ابن حزم کا بھی یہی مذہب ہے تو پھر کیوں اسلام کے عقائد میں ناحق تفرقہ اور تناقض پیدا کیا جاتا ہے؟ ہمارے مخالف اس کا جواب بجز دھوکا اور خیانت کی باتوں کے کچھ بھی نہیں دے سکتے ۔ غایت کا ر کہتے ہیں کہ بخاری میں جو یہ حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پانے میں اپنے تئیں حضرت عیسی علیہ السلام سے مشابہت دی اور فرمایا كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ اِس سے سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فوت نہیں ہوئے کیونکہ مشبہ اور مشبہ بہ میں فرق چاہئیے ۔ اب دیکھنا چاہئیے کہ کس قدر مکر اور دجل ہے کہ یہ لوگ استعمال میں لا رہے ہیں۔ عقلمند سوچیں کہ مشتبہ اور مشتبہ بہ میں کسی قدر فرق تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر کیا یہ فرق کہ ایک زندہ ہو اور دوسرا مردہ ۔ مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت ہے اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت ۔ بلکہ علم معانی میں اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ اصل امر میں مشبہ اور مشبه به اشتراک رکھتے ہیں ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ زید شیر کی مانند ہے تو زید اور شیر دونوں مشبہ اور مشبہ بہ ٹھہریں گے۔ لیکن اس تشبیہ سے یہ مراد ہرگز نہیں ہو گی کہ زید بن دل ہے اور شیر شجاع ہے بلکہ اصل امر جو شجاعت ہے دونوں کا اس میں اشتراک ہوگا۔ اور صرف یہ فرق ہو گا کہ وہ ایک درندہ کی شجاعت ہے اور یہ ایک انسان کی شجاعت ۔ مگر نفس امر شجاعت دونوں میں پایا جائے گا ۔ یا مثلاً یہ جو کہا جاتا ہے کہ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ﴿۸۲﴾ تو اس سے ہرگز نہیں سمجھا جاتا کہ مفہوم صلوٰۃ کا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے وہ غیر اس مفہوم کا ہے جو حضرت ابراہیم کی نسبت استعمال کیا گیا ہے۔ ایسا خیال کرنا تو سراسر حماقت ہے پس اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کر کے آنجناب کی