کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 550

کشف الغطاء — Page 6

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶ نجم الهدى سر إحماده، فهو بحار فضل الله صاحب تعریف ٹھہرانے کا ستر یہ تھا کہ خدا تعالیٰ وموالات امداده، وعناية الله التي نے متواتر اور پیاپے اس پر اپنے فضل نازل کئے ما وكلته طرفة عين إلى سعيه اور وہ عنایت اس کے شامل حال کی جس نے ایک واجتهاده، حتى شغفه وجه الله طرفه العین بھی اس کو اپنی کوشش اور سعی کا محتاج نہ حبا وأوحده في وداده، ففار قلبه لتحميد هذا المحسن حتى صار کیا۔ یہاں تک کہ وجہ اللہ نے اس کے دل کو چیر کر اپنا دخل اس میں کیا اور اپنی محبت میں اس کو یگا نہ بنایا۔ پس اس محسن کی تعریف کے لئے اس الحمد عين مراده۔ وهذه مرتبة ما کے دل نے جوش مارا اور خدا تعالیٰ کی تعریف اس أعـطــاهــا الـلـه لغيره من الرسل کی دلی مراد ہوگئی۔ اور یہ مرتبہ ہے کہ بجز اس کے والأنبياء والأبدال والأولياء ، کسی کو رسولوں اور نبیوں اور ابدالوں اور ولیوں فإنهم وجدوا بعض معارفهم میں سے عطا نہیں ہوا کیونکہ اُن لوگوں نے اپنے وعلومهم ونعمهم بوساطة العلماء بعض معارف اور علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں والآباء والمحسنين وذوى الآلاء ، اور باپوں اور احسان کرنے والوں کے پائی وأما نبينا صلى الله علیہ وسلم تھیں ۔ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فوجد كل ما وجد من حضرة الكبرياء، کچھ پایا جناب الہی سے پایا۔ اور جو کچھ ان کو ملا آنکه ستایش خداوندی را بدین غایت ادا ساخت آن که خداوند تعالیٰ شانہ پیاپے مہر بانہائے خود را بروی فرود آورد و عنایتے وکرمی در کاروی کرد که برائے چشم زدن هم ویرا نشد نیاز و احتیاج بکوشش و محنت خود بیارد تا آنکه وجه الله اندرونش را بشکافت و خودش در درون در شد و او را در مهر وحب خود یگانه گردانید۔ لهذا دل آنجناب در نیایش و ستایش همچو کارساز نیکی کن بجوش آمد وستایش خداوندی کام جان وی گردید۔ و این مرتبه ایست که غیر آنجناب را از انبیاء و اولیاء و ابدال و رسل دست بهم نداد زیرا که اوشان بعضی علوم و معارف را از واسطه آموزگاران و پدران و تر بیت کنندگان بدست آوردند ولی نبی ما (صلی اللہ علیہ وسلم )