کشف الغطاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 550

کشف الغطاء — Page 5

☆ روحانی خزائن جلد ۱۴ ♡ نجم الهدى وطهره من لدنه، وادبه من لدنه اور اپنے پاس سے پاک کیا اور اپنے پاس سے وغسله من لدنه بماء الاصطفاء، ادب سکھلایا اور برگزیدگی کے پانی سے اپنے پاس سے نہلایا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوجب عليه حمد هذا الرب | پر اس خدا کی تعریف کرنا واجب ہو گیا جو اس الذي كفل كل أمره بالاستيفاء، کے ہر ایک کام کا آپ متکفل ہوا۔ اور اپنی پناہ وادخله تحت رداء الايواء کی چادر کے نیچے جگہ دی اور ہر ایک کام وأصلح كل شأنه بنفسه من غير آنحضرت کا اپنی توجہ خاص سے بغیر توسط منة الاساتذة والآباء والأمراء، استادوں اور باپوں اور امیروں کے بنایا اور وأتم عليه من لدنه جميع أنواع اپنے پاس سے اُس پر ہر ایک قسم کی نعمت پوری کی ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نے الآلاء والنعماء۔ فحمده روح النبي بحمد لا يبلغ فكر إلى خدائے تعالیٰ کی وہ تعریف کی جو کوئی فکر اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچ سکتا اور کوئی آنکھ اس أسراره، ولا تدرك ناظرة حدود کے نوروں کی حدود کو پانہیں سکتی اور اس نے أنواره، وبالغ في الـحـمـد خدا کی تعریف کو کمال تک پہنچایا یہاں تک کہ حتى غاب وفنا في أذكاره۔ وأما اس کے ذکروں میں گم اور فنا ہو گیا۔ اور اس سبب هذا الحمد الكثير و کے اس قدر تعریف کرنے اور خدا تعالیٰ کو تعلیم داده و خودش از آب برگزیدگی و بر چیدگی شت و شور فرمود ۔ لہذا واجب آمد بر آنجناب ستایش پروردگار یکه ساز گار وکفیل کل امرا و شد و در زیر چادر پناه خودش جائے بداد ۔ وجملهٔ کا روے را بذات خویش بے میانجی گری استادان و پدران و تو نگران درست کرد و تمام نعمتها را بروی از قبل خود ا تمام فرمود ۔ لہذا روح نبی صلعم آں حمد خدا وندی را بجا آورد که هیچ فکر و اندیشہ بدامان کنہ وے نیارد برسد و هیچ دیده نتواند حدو د نورش را در یابد و آنجناب ستایش خداوندی را بمثابه رسانید که در یادش از خود برمید و سر به صحرائے گم گشتگی و فنا بکشید و سبب سہو کا تب معلوم ہوتا ہے۔ درست الاساتذة“ ہے۔(ناشر)