جلسہٴ احباب — Page 228
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۶ حجة الله ومن عجب قد أخذ كل نصيبه وفي السمط كانت درره لم تُفرق اور تعجب تو یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنا حصہ لے لیا حالانکہ رشتہ کے موتی رشتہ میں موجود رہے اور اس سے الگ نہ ہوئے إذا رُفِعَتْ أستارها فكأنّها عذارى أَرَيْنَ الوجه من تحت بُخْنُقِ اور جب ان کے پردے اٹھائے گئے پس گویا وہ باکرہ عورتیں تھیں جنہوں نے برقع میں سے منہ نکالا فظل العذارى ينتهبن بجلوة بَعاعَ قلوب المبصرين بمأزق پس ان باکرہ عورتوں نے یہ شروع کیا کہ وہ عارفوں کے دلوں کے مال کو لڑائی میں لوٹتی تھیں فشبر من الإيوان لم يبق خاليًا لما ملأ الإيوان عشاق منطقى پس میدان میں سے ایک بالشت جگہ خالی نہ رہی کیونکہ اس ایوان کو میرے سخن کے عاشقوں نے بھر دیا وكان الأناس لميلهم نحو كلمتي بأقطاره القصوى كطير مُرَنَّقِ اور لوگ بباعث اس کے کہ ان کو میرے کلام کی طرف میل تھا اس ایوان کے کناروں میں ایسے تھےکہ جسے ایک پرندہ ایک طرف پرواز کر کے جانا چاہے اور جانہ سکے وُقوفا بهم صحبي لخدمة دينهم يرون عجائب ربهم من تعمق اور ان کے پاس میرے دوست کھڑے تھے جو خدا تعالیٰ کے عجائب کام دیکھ رہے تھے وكم من عيون الخلق فاضت دموعها إذا ما رأوا آياتِ رَبِّ مُوفِّق اور بہتوں کے آنسو جاری ہو گئے جبکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشان دیکھے وكانوا إذا سمعوا كلاما كلؤلؤ وكَلِما تُفرحهم كمسك مدقق اور لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جس وقت وہ اس کلام گو ہر مثال کو سنتے تھے اور ان کلمات کو سنتے تھے جو مشک باریک کردہ کی طرح تھے يقولون كرّرها وأرو قلوبنا وهُنَّ علينا من عُذيقك وانتق کہتے تھے دوبارہ پڑھ اور ہمارے دلوں کو سیراب کر اور اپنی کھجوروں کو ہمارے پر ہلا اور جھاڑ هنالك لاحت آية الحق كالضحى فهل عند أمر واضح مِن مُبَرِّقِ ؟ اس جگہ دن کی طرح نشان خدا کا ظاہر ہو گیا پس کوئی ہے کہ ایک واضح امر کو آنکھ کھول کر دیکھے وإني سُقيتُ الماء ماء المعارف وأعطيت حكماء عافها قلب أحمق اور میں معارف کا پانی پلایا گیا ہوں اور وہ حکمتیں بھی مجھے عطا کی گئی ہیں جو صرف احمق ان سے کراہت کرتا ہے يمانية بيضاء دُرَرٌ كأنها جواهر سيف قد فداها لمُوبَقِ وہ یمنی حکمتیں موتیوں کی مانند ہیں گویا وہ تلوار کے جوہر ہیں جو کشتہ حسن کا خون بہا ہیں