جلسہٴ احباب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 494

جلسہٴ احباب — Page 227

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۵ حجة الله وَلِلهِ آيات لتأييد دعوتى فانس بعين الناظر المتعمق ﴿۷۷﴾ اور میری تائید دعوی میں خدا کے لئے نشان ہیں پس اس آنکھ سے دیکھ جو سوچنے والی اور غور کر کے دیکھا کرتی ہے ألا رُبَّ يوم قد بدت فيه آينا ولا سيّما يوم علافیه منطقی خبردار ہو بہت سے ایسے دن ہیں جن میں ہماری نشانیاں ظاہر ہوئیں بالخصوص وہ دن جس دن میری تقریر غالب آئی إذا قام عبد الله عبد كريمنا وكان بحسن اللحن يتلو ويبعق اور جس وقت مولوی عبد الکریم صاحب کھڑے ہوئے اور حسن آواز سے پڑھتے اور ترجیع کے ساتھ آواز کرتے تھے فكل من الحصار عند بيانه كمثل عطاشى أهرعوا أو كأعشق پس تمام حاضرین اس کے بیان کے وقت پیاسوں کی طرح یا عاشقوں کی طرح دوڑے وقاموا بجذبات النشاط كأنّهم تعاطوا سُلافًا مِن رحيق مُزَهْزِق اور نشاط کے جذبوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے گویا کہ انہوں نے وہ شراب لے لی جو اس شراب کی قسم میں سے تھی جو رقص آور ہو و مالت خواطرهم إليه لذاذة كمثل جياع عند خبرٍ مُرَقَّق اور ان کے دل اس کی طرف لذت کے ساتھ ایسے میل کر گئے جیسا کہ بھو کے نرم چپاتیوں کی طرف فأخرج حيوات العدا من جحورها وأنزَلَ عُصُمًا من جبال التعرق | اپس اس نے دشمنوں کے سانپوں کو ان کے سوراخوں سے باہر نکالا اور پہاڑی بکروں کو بخل کے پہاڑوں سے نیچے اتارا وكانوا بهمس يحمــدون كأنه حفيف طيور أو صداء التمطق اور نرم آواز سے تعریف کرتے تھے گویا وہ پروں کی ہلکی آواز تھی جب جانور صف باندھ کراڑتے ہیں یا زبان کے ساتھ بقیہ مذ کو چائے کی آواز تھی حداهم فلم يترك بها قلبَ سَامِع ولا أذنًا إلا حدا مثلَ غَيْهَقِ ان کو خوش آوازی سے جلایا اور کسی دل کو نہ چھوڑا اور نہ کسی کان کو مگر اونٹ کی طرح اس کو چلایا كأن قلوب الناس عند كلامه على قلبه لُفَّتُ كنبتٍ مُعَلِّقِ گویا لوگوں کے دل اس کے کلام کے وقت اس کے دل پر لیٹے گئے جیسا کہ ایک بوٹی درخت پر لیٹتی جاتی ہے۔ وكان كسِمُطَى لُؤلوء وزبرجد وكان المعاني فيه كالدرر تبرق اور موتی اور زبرجد کی دولڑیوں کی طرح وہ مضمون تھا اور معانی اس میں موتیوں کی طرح چمکتے تھے إليه صَبَتْ رَغَبًا قلوب أولى النهى إذا ما رأوا دُرَرًا وَسِمُطَ التزيق عقلمندوں کے دل اس کی طرف رغبت سے جھک گئے جس وقت انہوں نے موتی دیکھے اور زینت کی لڑی دیکھی