جلسہٴ احباب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 494

جلسہٴ احباب — Page 173

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۱ حجة الله و ألفوا بالحسد كاللئام، بعد ما أَلْفَوا دُرَرَ الكلام، إن في ذلك لآيات للمتعمقين ۔ ومن آياتي ۲۳ اور ناکسوں کی طرح حسد سے الفت کی۔ بعد ا سکے جو میری کلام کے موتی انہیں معلوم ہوئے اس میں غور کرنیوالوں کیلئے نشانیاں ہیں اور میرے نشانوں میں أني لبثت على ذلك عُمُرًا من الزمان، ولا يُمهل من افترى على الله الديان، إن في ذلك سے ایک یہ ہے کہ میں اس دعوی الہام پر ایک عمر سے قائم ہوں اور مفتری کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مہلت نہیں دی جاتی ۔ اس میں اہل فراست | الآيات للمتوسّمين ۔ ومن آياتي أنّى أُعطيتُ عقيدة يدرأ عن الطالب كل شبهة، ويكشف عن لوگوں کیلئے نشان ہیں۔ اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ میں ایسا عقیدہ دیا گیا ہوں کہ جو طالب کا ہر یک شبہ دور کرتا ہے۔ اور بھید کے بيضة السرّ مع حقيقة، إن في ذلك لآيات للمستبصرين ۔ ومن آياتي أن الزمان نظم لي في انڈے میں سے حقیقت کا زردہ ظاہر کرتا ہے۔ اس میں دیکھنے والوں کے لئے نشان ہیں۔ اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ میرے سلك الرفاق، وأُنشئ المناسبات في الأنفس والآفاق، وكذلك أُرسلت عند خفوق راية | رفیقوں میں منسلک کیا گیا۔ اور انفسی اور آفاقی مناسبات پیدا ہو گئیں۔ اور اسی طرح میں اس وقت بھیجا گیا کہ جب نامرادی کا جھنڈا جنبش کر رہا تھا۔ اس الإخفاق، إن في ذلك لآيات للمتفرّسين ۔ ومن آياتي أن الله شحذ سيف بياني، وأرى - میں فراست والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ خدا نے میرے بیان کی تلوار کو تیز کیا۔ اور میرے برہان کی تیزی جواهره بغرار برهاني، إن في ذلك لآيات للناظرين ۔ ومن آياتي أن الحق ما استسر عنى کے ساتھ اسکے جو ہر دکھلائے۔ یہ تحقیق اس میں دیکھنے والوں کیلئے نشان ہیں اور میری نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دم بھی سچائی مجھ سے پوشیدہ نہیں حينًا، وجُعِل قلبى له عَرِينًا، وجُعِلتُ له مُجدّدًا مُبِينًا، إنّ في ذلك لآيات للمتأملين۔ ہوئی اور میرا دل اس کا نزول گاہ بنایا گیا اور میں اس کے لئے تازہ کر نیوالا اور کھول کر بیان کر نیوالا مقرر کیا گیا۔ اس میں فکر کرنیوالوں کیلئے نشان ہیں۔ أيها الناس۔ قد جاء كم لطف ربّ العباد ، وتعهدكم فضله تعهد العهاد اے لوگو! تمہارے پاس خدا کی مہربانی آئی۔ اور اس کے فضل نے تمہاری خبر گیری کی جیسا کہ وقت کی بارش عند إمحال البلاد، فلا تردوا نعم الله إن كنتم شاكرين ۔ أأنتم خشک سالی کے وقت خبر گیری کرتی ہے۔ پس اگر تم شکر گزار ہو تو خدا کی نعمتوں کو رد نہ کرو۔ کیا تم اس کی