جلسہٴ احباب — Page 172
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۷۰ حجة الله ۲۲ كالموذيين، وأما بعد نبأ الإلهام، فامتنع من النزاع والخصام، وصار كقلم ردى، وسيف صدى موذیوں کی طرح لڑتا تھا مگر اس پیشگوئی کے بعد وہ چپ ہو گیا اور تمام بحث و مباحثہ اس نے چھوڑ دیا اور ایک ناکارہ قلم کی طرح یا ایک زنگ خوردہ وجَهِلَ أوصاف المصاف وأخلاف الخلاف، وكنتُ أعطيه أربعة آلاف، إذا قمت لإحلاف، فما تلوار کی طرح بن گیا اور لڑائی کی تعریف کو بھول گیا اور مخالفت کے پستانوں کو فراموش کر دیا اور میں نے اس کو قسم کھانے پر چار ہزار روپیہ دینا کیا مگر تألى، بل ولى؛ فانظروا أهذه علامة الصادقين؟ ثم إذا انقضت أشهر الميعاد، فقسى قلبه ورجع | اس نے قسم نہ کھائی بلکہ منہ پھیر دیا۔ پس دیکھو کیا یہ بچوں کی علامتیں ہیں۔ پھر جب میعاد کے مہینے گزر گئے تو اس کا دل سخت ہو گیا اور انکار اور إلى الإنكار والعناد، فلذلك مَاتَ بَعْدَ ما أنكر وأبى، ولو أنكر فى الميعاد لمات فيها وفنى فلا۔ عناد کی طرف اس نے رجوع کر لیا۔ پس وہ اسی لئے مر گیا کہ اس نے انکار کرنا شروع کیا اور اگر میعاد کے اندر انکار کرتا تو میعاد کے اندر ہی مر جاتا۔ شك أن هذا النبأ سود وجوه المنكرين، وأرغمَ مَعاطِسَ المكذبين، وإن فيه آيات للطالبين، وإنّه پس کچھ شک نہیں کہ اس پیشگوئی نے منکروں کے منہ کو کالا کر دیا اور ان کی ناک کو خاک کے ساتھ رگڑ دیا اور اس میں ڈھونڈ نے والوں کیلئے نشان ہیں اور یہ مكتوب في كتابي "البراهين"، وإنه يوجد في أخبار خاتم النبيين، فآمنوا به إن كنتم مؤمنين۔ پیشگوئی میری کتاب براہین احمدیہ میں لکھی ہوئی ہے اور نیز احادیث خاتم الانبیا صلی للہ علم میں پائی جاتی ہے۔ پس ایمان لاؤ اگر ایمان لا سکتے ہو۔ ومن آياتي أن الأحرار نافسوا في مصافاتي، وآثروا لعن الخلق لموالاتي، وتركوا اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے کہ شریف لوگوں نے میری دوستی میں رغبت کی اور میری دوستی کیلئے لعنت خلق کو قبول کیا۔ أنفسهم لنفائس نكاتي وصبوا إلى رؤيتي وجاء وا تحت راياتي، إن في ذلك اور اپنے عزیزوں کو میرے معارف کیلئے چھوڑا اور میرے دیکھنے کی طرف مائل ہوئے اور میرے جھنڈے کے نیچے آ گئے۔ اس میں الآيات للمتدبرين۔ ومن آياتي أن العدا رغبوا عن معارضتي، بعد ما رأوا تدبر کرنے والوں کے لئے نشان ہیں اور منجملہ میرے نشانوں کے یہ ہے کہ دشمنوں نے میرے مقابلہ سے کنارہ کیا بعد اس کے کہ عارضتى، ووجدوا كالبخيل القالى، بعد ما وجدوا عذوبة مقالي میری قوت کلام کو پایا۔ اور بخیل دشمنی رکھنے والے کی طرح غصہ کیا بعد اس کے جو میری شیریں کلامی کو پایا۔