ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 631
روحانی خزائن جلد ۳ که ۶۳۱ در تفسیر قرآن عظیم خلاف راه صحابه رضی اللہ عنہم اختیار نمودن الحاد و ضلالت است و رضا مندی رب العالمین در اتباع ایشان است، اور اسی خط میں دو قوله تعالى - مَا سَمِعْنَا بِهَذَا فِي لے میں الملة الآخرة کی الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ (اى الملة المحمدية ( إِنْ هُذَا إِلَّا اخْتِلاقُ من الملة تفسیر خلاف صحابہ و تابعین و جميع مفسرين الملة المحمدية سے فرماتے ہیں ! احادیث میں مسیح علیہ السلام کا حلیہ کہیں احمر رجل الشعر اور کہیں اسمر سبط الشعر آیا ہے ۔ اس کی تطبیق میں تاویل کی جاتی ہے ۔ علیٰ ھذا القیاس اور امور میں بھی الہی کلام میں تمثیلات و استعارات و کنایات کا ہونا اسلامیوں میں مسلم ہے مگر ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جاوے تو ہر یک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء نا قصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الہی کلمات طیبات کو لاسکتا ہے اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے 9 واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے ۔ الہی کلمات طیبات میں استعارات بکثرت ہوتے ہیں مگر اس امر کے باعث کیا ہم ہر جگہ استعارہ و مجاز لینے پر دلیر ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں۔ کیا عبادات میں معاملات میں تمدن و معاشرت کے مسائل میں اخلاق و سیاست کے احکام میں بھی ہم استعارات سے کام لیں گے؟ ہرگز نہیں ! ان باتوں کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے عملی طور پر کر کے ہمیں دکھا دیا۔ اُمت کے تعامل و رواج نے وہ تصویر ہم تک پہنچادی جزاهم الله احسن الجزاء۔ مگر جو کچھ پیشین گوئیوں میں مذکور ہے اور جو کچھ انبیاء علیہم السلام کے مکاشفات اور رویا صالحہ میں نظر آتا ہے کچھ شک نہیں کہ وہ عالم مثال میں ہوا کرتا ہے ۔ ایسا ہی اُن کے بعض اخبار ماضیہ اور حقائق کو نیہ اور عالم مثال کے اشکال والوان عالم جسمانی کے الوان واشکال سے بالکل نرالے ہوا کرتے ہیں ۔ پس ایسے موقعہ پر علوم ضرور یہ یقینیہ ص: ۸