ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 627
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۷ حبي في الله اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کا خط ایک سائل کے جواب میں عزیز من حفظک الله وسلّم - ثم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته - مرزا جی کے دعاوی پر آپ نے مجھے ایک بہت بڑا لمبا خط لکھا ہے ۔ بجواب اس کے گزارش ہے کہ فلا تستعجلون (جلد باز نہ بنو ) ایک الہی ارشاد ہے جو حضرت خاتم الانبیاء اصفی الاصفیاء سیدنا و مولانا احمد مجتبی محمد مصطفے (فداہ امی وابی ) صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کے نام جاری ہوا تھا۔ ہم اسی ارشاد کو ظلی طور پر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل اور نائب اور اس کے دین کے خادم حضرت مجدد الوقت مرزا جی کے مخالفوں کو سناتے ہیں۔ مخالفت والو ! صبر سے انتظار کرو جلد باز نہ بنو۔ مرزا جی نے اپنے بعض احباب کو اس خاکسار کے سامنے فرمایا ہے کہ اگر لوگ تم سے بمباحثہ پیش آویں تو یہ الہی حکم اُن کو سنا دو إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ تَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ ﴿۲﴾ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ ۔ عزیز من سنو اور اس پر غور کرو۔ دنیا میں ایک جماعت گذری اور اب بھی ہے جنہوں نے آنا الله کہا۔ اور کہتے ہیں۔ ایسے قائلین کی تکفیر تفسیق سے بھی محتاط کف لسان پسند کرتے ہیں اور اس جماعت کو صلحاء و اولیاء کی جماعت کہتے ہیں۔ پس عزیز من! انا المسيح انا عيسى ابن مريم | کہنے والے پر یہ شور و غل کیوں؟ انصاف! انصاف !! انصاف !!! میرے پیارے ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے الدر الثمین میں فرمایا ہے بلغنی عن سيدى العم انه قال رايت النبى صلى الله عليه وسلم في النوم فلم يزل يدنيني منه حتى صرت نفسه - ایسا ہی ابن حزم ظاہری کی نسبت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ نے ارقام فرمایا ہے یہ نظارہ انا محمد کہنے کا ہے۔ آہ پھر انا المسيح وانا ابن مريم الموعود پريه طیش و غضب کیوں !!! المؤمن : ٢٩