ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 621
روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۱ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه خیال کر سکتا ہے کہ وہی بچھو دوبارہ زندہ ہو کر آگئے جو مر گئے تھے بلکہ مذہب صحیح جو قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے یہی ہے کہ مخلوقات ارضی میں سے بجز جن اور انس کے اور کسی چیز کو ابدی روح نہیں دیا گیا۔ پھر اگر خلق اللہ کے طور پر کسی مادہ سے خدا تعالیٰ کوئی پرندہ پیدا کر دے تو کیا بعید ہے مگر ایسی روح کا اعادہ جو حقیقی موت کے طور پر قالب سے نکل گیا تھا وعدہ الہیہ کے برخلاف ہے تمام مقامات قرآن کریم میں جو احیاء موتی کے متعلق ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ فلاں قوم یا شخص کو مارنے کے بعد زندہ کیا گیا ان میں صرف امانت کا لفظ ہے توفی کا لفظ نہیں ۔ اس میں یہی بھید ہے کہ توفی کے حقیقی معنے وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں لیکن امانت کے حقیقی معنے صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے ۔ ہاں یہ بھی بالکل ممکن اور جائز ہے کہ خدا تعالیٰ یہ ہے فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ کے پھر دسویں آیت یہ ہے أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خُلِدُونَ ۔ ایسا ہی وہ تمام آیتیں جن کے بعد خالدون یا خالدین آتا ہے اس امر کو ظاہر کر رہی ہیں کہ کوئی انسان راحت یا رنج عالم معاد کے چکھ کر پھر دنیا میں ہرگز نہیں آتا ۔ اگر چہ ہم نے ابتداء میں ایسی آیتیں سولہ قرآن کریم میں سے نکالی تھیں مگر دراصل ایسی آیتوں سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے ۔ نہ صرف قرآن کریم بلکہ بہت سی حدیثیں بھی یہی شہادت دے رہی ہیں ۔ چنانچہ ہم بطور نمونہ مشکوۃ شریف سے حدیث جابر بن عبداللہ کی اس جگہ نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے ۔ و عن جابر قال لقيني رسول الله صلعم فقال یا جابر مالی اراک منکسرا قلت استشهد ابی و | ترک عیالا و دينا قال افلا ابشرك لما لقى الله به اباک قلت بلی یا رسول الله قال ما كلم الله احدًا قط الا من وراء حجاب و احیی اباک فکلمه کفاحًا قال یا عبدی تمن على اعطك قال تحیینی فاقتل فیک ثانية قال الرب تبارک و تعالی ن ১ ایس : ۵۱ ۲ البقرة : ۸۳