ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 620 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 620

روحانی خزائن جلد ۳ ۶۲۰ ازالہ اوہام حصہ دوم بقیه حاشیه پھر ہرگز دنیا میں نہیں آتا اور ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ہرگز سچ نہیں ہے کہ ان تمام مقامات میں جہاں مردہ زندہ ہونا لکھا ہے واقعی اور حقیقی موت کے بعد زندہ ہونا لکھا گیا ہے بلکہ لغت کی رو سے موت کے معنے نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔ پس کیوں آیات کو ۹۴۳ خواہ مخواہ کسی تعارض میں ڈالا جائے اور اگر فرض کے طور پر چار جانور مرنے کے بعد زندہ ہو گئے ہوں تو وہ اعادہ روح میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ بجز انسان کے اور کسی حیوان اور کیڑے مکوڑے کی روح کو بقاء نہیں ہے۔ اگر زندہ ہو جائے تو وہ ایک نئی مخلوق ہوگی چنانچہ بعض رسائل عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ اگر بہت سے بچھو کوٹ کر ایک ترکیب خاص سے کسی برتن میں بند کئے جائیں تو اس خمیر سے جس قدر جانور پیدا ہوں گے وہ سب بچھو ہی ہوں گے۔ تو اب کیا کوئی دانا )ب( پھر آگے فرمایا کہ جو لوگ مر چکے ہیں ان میں اور دنیا میں ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک دنیا کی طرف رجوع نہیں کر سکتے ۔ پھر تیسری آیت جو اسی امر کو بوضاحت بیان کر رہی ہے یہ ہے فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لے یعنی جس پر موت وارد ہوگئی خدا تعالیٰ دنیا میں آنے سے اسے روک دیتا ہے۔ پھر چوتھی آیت اسی مضمون کی یہ ہے وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَتَبَرَّاً مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُ وَامِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَتٍ عَلَيْهِمْ واهند برجين من النار کے یعنی دوزخی لوگ درخواست کریں گے جو ایک دفعہ ہم دنیا میں جائیں تا ہم اپنے باطل معبودوں سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے وہ ہم سے بیزار ہیں لیکن وہ دوزخ سے نہیں نکلیں گے۔ پھر پانچویں آیت اس مضمون کی یہ ہے ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ کے پھر چھٹی آیت یہ ہے لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلا کے پھر ساتویں آیت یہ ہے وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ھے پھر آٹھویں آیت یہ ہے يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخْرِجِينَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ، پھر نویں آیت الزمر : ۴۳ ٢ البقرة: ۱۶۸ ۳ المومنون : 1 الكهف : ١٠٩ ه الحجر : ۴۹ المائدة : ٣٨