ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 598 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 598

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۸ ازالہ اوہام حصہ دوم و تو صرف اسی قدر معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ بوجہ علت العلل ہونے کے بدوں کو اُن کے مناسب حال اور نیکوں کو ان کے مناسب حال اُن کے جذبات نفسانی یا متقیانہ جوشوں کے موافق اپنے قانون قدرت کے حکم سے خیالات و تدابیر و حیل مطلوبہ کے ساتھ تائید دیتا ہے یعنی نئے نئے خیالات وحیل مطلوبہ اُن کو سوجھا دیتا ہے یا یہ کہ اُن کے ان جوشوں اور جذبوں کو بڑھاتا ہے اور یا یہ کہ اُن کے تخم مخفی کو ظہور میں لاتا ہے مثلاً ایک چور اس خیال میں لگا رہتا ہے کہ کوئی عمدہ طریقہ نقب زنی کا اس کو معلوم ہو جائے تو اُس کو سو جھایا جاتا ہے۔ یا ایک متقی چاہتا ہے کہ وجہ حلال کی قوت کے لئے کوئی سبیل مجھے حاصل ہو تو اس بارہ میں اس کو بھی کوئی طریق بتلایا جاتا ہے۔ سو عام طور پر اس کا نام الہام ہے جو کسی نیک بخت یا بد بخت سے خاص نہیں بلکہ تمام نوع انسان اور جمیع افراد بشر اس علۃ العلل سے مناسب حال اپنے اس الہام سے مستفیض ہو رہے ہیں۔ بتانے لیکن اس سے بہت اوپر چڑھ کر ایک اور الہام بھی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وحی کے لفظ سے یاد کیا ہے نہ الہام سے ۔ اور اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک تجلی خاص کا نام ہے جو بکثرت انہیں پر ہوتی ہے جو خاص اور مقرب ہوں ۔ اور اس کی علت غائی یہ ہے کہ شبہات اور شکوک سے نکالنے کے لئے یا ایک نئی یا مخفی بات کے ؟ کے لئے یا خدا تعالیٰ کی مرضی اور عدم مرضی اور اس کے ارادہ پر مطلع کرنے کے لئے یا کسی محل خوف سے مامون اور مطمئن کرنے کے لئے یا کسی بشارت کے دینے کے لئے منجانب اللہ پیرا یہ مکالمہ و مخاطبہ اور ایک کلام لذیذ کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتی ہے ۔ اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ وہ ایک غیبی القاء لفظوں کے ساتھ ہے جس کا ادراک غالباً غیبت حس کی حالت میں سماع کے طور پر یا جریان علی اللسان کے طور پر یا رویت کے طور پر ہوتا ہے اور اپنے نفس اور امور خیالیہ کو اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ محض الہی تحریک اور ۱۳ ربانی نفخ سے ایک قدرتی آواز ہے جس کو مورد وحی کی قوت حاسہ دریافت کر لیتی ہے۔