ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 597
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۹۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اور کوئی ثبوت اُن کے محققہ اور واقعیہ ہونے کا نہیں ۔ صوفیاء کرام کے تمام الہامات بحر تخیلات نفسی کے زیادہ رتبہ نہیں رکھتے اور محض پیچ پوچ اور بیکار ہیں ۔ نہ ان سے خلق اللہ کو کچھ نفع ہے اور نہ ضرر ۔ دین اسلام تو بموجب الیوم اکملت لکم دینکم کامل ہو چکا اب الہام اس میں کوئی نئی بات پیدا نہیں کر سکتا۔ جو لوگ کسی ملہم کو خدا رسیدہ سمجھتے ہیں وہ اس بات کا بھی تصفیہ ﴿۹۰۹ نہیں کر سکتے کہ در حقیقت اس کا دعوی الہام صحیح ہے یا دماغ میں خدا نخواستہ کچھ خلل ہے۔ اور مہم جو اپنے تئیں بوجہ الہام مطمئن سمجھتا ہے یہ اطمینان اُس کے بھی اعتماد کے لائق نہیں کیا معلوم کہ وہ در حقیقت مطمئن ہے یا یونہی خیال باطل میں مبتلا ہے۔ اس سے زیادہ ملہموں اور اُن لوگوں میں جو صوفی اور اہل اللہ کہلاتے ہیں اور کچھ نہیں کہ وہ اپنے ہی امور خیالیہ پر جو بے اصل محض ہیں جم جاتے ہیں اور اُن کو صحیح خیال کرنے لگتے ہیں اور ان کی ترقیات سلوک صرف اوہام کی ترقی ہے۔ الہام اور مہم کی طرف نہ دین کے لئے اور نہ معاد کے لئے اور نہ تقرب الی اللہ کے لئے اور نہ تمیز حق اور باطل کے لئے ہمیں کچھ حاجت ہے گو لوگ کسی مہم کے گرد ایسے جمع ہو جائیں جیسے بت پرست کسی بت کے گرد۔ خلاصہ مطلب یہ کہ الہام بالکل بے سود ہے اور اس کی صحت پر کوئی حجت نہیں ۔ فافهم هذا ما الهمني ربى - تم كلامه یہ عاجز سید صاحب کے وساوس کے دور کرنے کے لئے سب سے اول اس بات کو ظاہر کرنا مناسب سمجھتا ہے کہ جو کچھ سید صاحب نے الہام کے بارے میں سمجھا ہے یعنی یہ کہ وہ صرف امور خیالیہ ہیں کہ فقط ملہمین کا دل ہی ان کا موجد ہوتا ہے ۔ یہ سید صاحب ۹۱۰ کی رائے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اب تک اس تعلیم سے بے خبر ہیں کہ جو الہام یعنی وحی کے بارے میں اللہ جل شانہ اور اس کے رسول نے فرمائی ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآن کریم میں اس کیفیت کے بیان کرنے کے لئے جو مکالمہ الہی سے تعبیر کی جاتی ہے الہام کا لفظ اختیار نہیں کیا گیا محض لغوی طور پر ایک جگہ الہام کا لفظ آیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوُهَا ۔ سو اس کو مانحن فیہ سے کچھ تعلق نہیں ۔ اس کے ا الشمس : 9