ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 542
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۴۲ ازالہ اوہام حصہ دوم پڑا ہے ۔ اگر دولت مند لوگ کسی پر احسان نہ کریں صرف فریضہ زکوۃ کے ادا کرنے کی طرف متوجہ ہوں تاہم ہزار ہا روپیہ اسلامی اور قومی ہمدردی کے لئے جمع ہو سکتا ہے لیکن مال بخیل آنگاه از خاک برآید که بخیل در خاک رود (۳۶) حبّى فى الله میراں بخش ولد بہادر خان کیروی ایک مخلص اور پختہ اعتقاد آدمی ہے اس کے زیادت اعتقاد کا موجب اس نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک مجذوب نے اس کو خبر دی تھی کہ عیسیٰ جو آنے والا تھا وہ یہی ہے یعنی یہ عاجز ۔ اور یہ خبر اس عاجز کے اظہار دعوئی سے کئی ۸۱۷ سال پیشتر وہ سن چکا تھا اور صدہا آدمیوں میں شہرت پاچکے تھے۔ (۳۷) حبّى فى الله حافظ نور احمد صاحب لدھیانوی ۔ حافظ صاحب جوان صالح بڑے محب اور مخلص اور اول درجہ کا اعتقاد رکھنے والے ہیں۔ ہمیشہ اپنے مال سے خدمت کرتے رہتے ہیں۔جزاهم الله خير الجزاء۔ (۳۸) حبّي في الله مولوی محمد مبارک علی صاحب ۔ یہ مولوی صاحب اس عاجز کے استاد زادہ ہیں۔ ان کے والد صاحب حضرت مولوی فضل احمد صاحب مرحوم ایک بزرگوار عالم با عمل تھے مجھ کو اُن سے از حد محبت تھی کیونکہ علاوہ اُستاد ہونے کے وہ ایک با خدا اور صاف باطن اور زندہ دل اور متقی اور پر ہیز بزگار گار تھے ۔ عین نماز کی حالت میں ہی ہی ا اپنے محبوب حقیقی کو جاملے ۔ اور چونکہ نماز کی حالت ایک تبتل اور انقطاع کا وقت ہوتا ہے اس لئے اُن کا واقعہ ایک قابل رشک واقعہ ہے۔ خدائے تعالیٰ ایسی موت سب مومنوں کے لئے نصیب کرے۔ مولوی مبارک علی صاحب اُن کے خلف رشید اور فرزند کلاں ہیں ۔ سیرت اور ۸۱۸ صورت میں حضرت مولوی صاحب مرحوم سے بہت مشابہ ہیں ۔ اس عاجز کے یک رنگ اور پُر جوش دوست ہیں اور اس راہ میں ہر یک قسم کے ابتلا کی برداشت کر رہے ہیں ۔ حضرت عیسی ابن مریم کی وفات کے بارے میں ایک رسالہ انہوں نے تالیف کیا ہے جو چھپ کر شائع ہو گیا ہے جس کا نام قول جمیل ہے۔ اس عاجز کا ذکر بھی اس میں کئی جگہ کیا گیا ہے