ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 204

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۰۴ ازالہ اوہام حصہ اول اور وهيب عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها اريتك في المنام مرتين ارى انك في سرقة من حرير و يقول هذه امرأتك فاكشف عنها فاذا هى انت فاقول ان يك هذا من عند الله يمضه یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ تو خواب میں مجھے دو دفعہ دکھائی گئی اور میں نے تجھے ایک ریشم کے ٹکڑے پر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ تیری عورت ہے اور میں نے اس کو کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تو ہی ہے اور میں نے کہا کہ اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی تعبیر ہے ؟ سے یہی تعبیر ہے جو میں نے مجھی ہے تو ہو رہے گی یعنی خوابوں ! انے مکاشفات کی تعبیر ضرور نہیں کہ ظاہر پر ہی واقعہ ہو کبھی تو ظاہر پر ہی واقعہ ہو جاتی ہے اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آتی ہے سو اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کی سچائی میں شک نہیں کیا کیونکہ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے بلکہ اس کی طرز وقوع میں تردد بیان کیا ہے کہ خدا جانے اپنی ظاہری صورت کے لحاظ سے وقوع میں آوے یا اُس کی اور کوئی تعبیر پیدا ہو اور اس جگہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے یہ بھی بخوبی ثابت ہو گیا کہ جو وحی کشف یا خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہو وے اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ اسی صفحہ ۵۵۱ میں ایک دوسری حدیث میں ایسی غلطی کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے اور وہ یہ ہے قال ابو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم رأيت في المنام اني اهاجر من مكة الى ارض بها نخل فذهب وهلى الى انها اليمامة او هجر فاذا هي المدينة يثرب ۔ یعنی ابوموسی سے روایت ہے جو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی ۲۲ طرف ہجرت کرتا ہوں جس میں کھجوریں ہیں پس میر او ہم اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو گا مگر آخر وہ مدینہ نکلا جس کو یثرب بھی کہتے ہیں۔ اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے