اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 512

اتمام الحجّة — Page 257

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۵۷ نور الحق الحصة الثانية إذا ما عَى قومى من جواب فمالوا نحو هذي كالجَهام جس وقت میری قوم جواب دینے سے عاجز آ گئی سو بکو اس کی طرف مائل ہو گئی جیسے وہ بادل جس میں پانی نہ ہو وقالوا آيةٌ لبنى حسين ومنهـم نـرقُبَـنُ بَـعـث الإمام اور بولے کہ یہ ایک نشان بنی حسین کے لئے ہے اور انہیں میں سے امام کے پیدا ہونے کی امید کی جاتی ہے فقلت احشوا إِلَهَا ذا جلال وفرّوا نحو عيني بالأوام پس میں نے کہا کہ خدائے بزرگ سے ڈرو اور میرے چشمہ کی طرف پیاس کے ساتھ دوڑو ولا يدرى الخفايا غير ربي وما الأقوام إلا كالأسامي اور پوشیدہ باتوں کو میرے رب کے سوا کوئی نہیں جانتا وأى ثبوت نسب عند قوم سوى الدعـوى كـأوهام المنام اور کس قوم کے پاس اپنی نسب کا ثبوت ہے بجز دعوی کے جو خواب کے وہموں کی طرح ہے اور قومیں صرف نام ہیں ونحن الوارثون كمثلِ وُلُدٍ ورِثُنا كل أموال الكرام اور ہم بیٹوں کی طرح وارث ہیں اور بزرگوں کے تمام مال کے ہم وارث ہو گئے فتوبوا واتقوا ربا قديرًا مليك الخلق والرسل العظام پس تو بہ کرو اور اس رب قادر سے ڈرو جو خلقت اور رسولوں کا بادشاہ ہے ومن راما فأين يفرّ منا وإنا النازلون بأرض رامي اور جو شخص ہم سے تیر اندازی کرے ہم سے کہاں بھاگے گا کیونکہ ہم تیر چلانے والوں کی زمین پر اتریں گے وردنا الماء صفوًا غير كدر ويشرب غيرنا وَشُلَ الإجامِ ہم پانی میں وارد ہو گئے جو مصفا اور غیر مکدر ہے اور ہمارے مخالف تھوڑا سا جنگلوں کا پانی پی رہے ہیں أتاني الصالحون فبايعوني وخافوا ربهم يوم القيام نیک لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے بیعت کی اور خدا تعالیٰ سے اور جزا سزا کے دن سے ڈرے - وأما الطالحون فأكفرونى ولعنوني وما فهموا كلامي جو تباہ کار تھے سو انہوں نے مجھے کافر ٹھہرایا اور میرے پر لعنتیں کیں اور میرے کلام کو نہ سمجھا وأفتوا بالهوى من غير علم وقالوا كافر للكفر كامي اور بغیر بصیرت علم کے اور ہوا و ہوس کے فتوئی لکھا اور کہا کہ کافر ہے اور کفر کے لئے گواہی کو چھپانے والا